This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !
Showing posts with label Curruption NEWS. Show all posts
Showing posts with label Curruption NEWS. Show all posts

Friday, May 4, 2012

Would You Like to Live in a House Called Auto Residence(houses)

Would You Like to Live in a House Called Auto Residence

 
House-Called-Auto-Residence-1
Markus Voglreiter is an architect who seems to be one of those guys who like cars a little bit too much. When architecture and love for cars come together in one person then you can expect some crazy house to come out as a product.
Markus has designed this unique house called Auto Residence. It can be found in Salzburg, Austria.

When you look it from outside, it looks like some huge car and it even has wheels and lights attached to it. But, when you see its interior, you will be amazed how comfortable and luxury it is.
House-Called-Auto-Residence-2
House-Called-Auto-Residence-3
House-Called-Auto-Residence-4
House-Called-Auto-Residence-5

Thursday, May 3, 2012

Rare Pictures of Migration 1947 Part-6

India Pakistan Partition 1947
WORLD'S BIGGEST MIGRATION OF HUMAN BEING ON EARTH







In 1947, the border between India and its new neighbour Pakistan became a river of blood, as the exodus erupted into rioting.

Punjab Govt. Laptop Scandal Facts on Dunya News by (Mubasshar Luqman Khari Baat k Sath)Par 03

Corruption! Corruption! Corruption!When it will finished? 

We Can't Believe that in every Project of Govt. and in Every Profession There is so Much Corruption. I think At least in Education  There should not be Corruption. Then May be Our Nation will changes its Ideas. But there is No chance of change. Every one is participated in it by his side.
We just can pray for our Country.   

Punjab Govt. Laptop Scandal Facts on Dunya News by (Mubasshar Luqman Khari Baat k Sath)Par 01


We Can't Believe that in every Project of Govt. and in Every Profession There is so Much Corruption. I think At least in Education  There should not be Corruption. Then May be Our Nation will changes its Ideas. But there is No chance of change. Every one is participated in it by his side.
We just can pray for our Country.   

Tuesday, May 1, 2012

Lyari Operation Failed in Karachi.پورے کراچی کی پولیس مل کر بھی 4 روز میں لیاری فتح کرنے میں ناکام ہوگئی



لیاری آپریشن میں آٹھ روز گزر جانے کے باوجود حکومت کو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے اور اس سلسلے میں گذشتہ روز تو واضح طور پر امن کمیٹی کے مسلح افراد کا پلڑا بھاری نظر آیا جبکہ پولیس اہلکار دفاعی پوزیشن پر نظر آئے، کئی روز کی شدید جنگ کے بعد اب پولیس ا ہلکار ہمت ہارتے نظر آرہے ہیں اور طاقت کے استعمال سے بھی نتائج نہیں مل سکے ہیں البتہ لیاری مکمل طور پر پیپلز پارٹی کا مخالف ہو چکا ہے۔ جبکہ اس سلسلے میں حکومت اور ملکی اداروں میں اختلافات کی خلیج بڑھتی جا رہی ہے تاہم ان اختلافات کی تصدیق یا تردید کرنے پر کوئی فریق تیار نہیں ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک برس کے دوران سندھ کے رخصت پر بھیجے گئے دوسرے وزیر داخلہ منظور وسان نے زبردستی کی رخصت پر روانگی سے قبل صحافیوں سے الوداعی ملاقات میں اس سوال کا جواب دینے سے گریزکیا کہ رینجرز لیاری آپریشن میں موثر کردار ادا کیوں نہیں کر رہی۔ انہوں نے کاندھے اچکا کر چڑچڑے انداز میں کہا کہ یہ سوال تو وزیراعلیٰ سے پوچھا جائے جن کے پاس اب وزارت داخلہ کا قلم دان ہے، (میں تو چھٹی پر ہوں) ان کی بے بسی قابل دید تھی۔ لیاری آپریشن پر اداروں کے تحفظات غیر جانبدار سیاسی قوتوں سے ملتے جلتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ آپریشن کراچی کے مختلف علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا تخصیص ہونا چاہئے۔ لیاری کے آٹھ افراد اگر گرفتار بھی ہوگئے تو کیا کراچی میں امن قائم ہو جائے گا؟، ٹارگٹ کلنگ بند ہو جائے گی؟ اسٹریٹ کرائمز کے ستائے ہوئے شہری سکون کی زندگی گزار سکیں گے؟ ہر طرف امن اور چین ہوگا؟ اگر ان سب کی ضمانت ہے تو پھر کراچی کے لوگوں کو لیاری آپریشن پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا مگر انہیں معلوم ہے کہ کراچی میں لوگوں کی جانیں لینے والے کبھی مطمئن نہیں ہوتے اور یہ کراچی کے شہری برسوں سے دیکھ اور بھگت رہے ہیں۔
دو برس قبل سابقہ وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے جو صدر زرداری کے دست راست اور انتہائی قریبی رفیق تھے نے کراچی کے مسئلے کا نرالاحل دریافت کیا تھا جس کی تصدیق گزشتہ روز جیو کے پروگرام ”لیکن“ میں امن کمیٹی کے ظفر بلوچ نے کی کہ انہیں ہتھیار پیپلز پارٹی نے دیئے تھے اور اس لئے دیئے تھے کہ وہ ایم کیو ایم کے لوگوں کا مقابلہ کریں۔ یہی اسلحہ کے انبار اب قانون کے خلاف استعمال ہو رہے ۔پہلے سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی جبکہ تاجر اور عام شہری روزانہ کسی نہ کسی پلیٹ فارم پر احتجاج کرتے یا دہائی دیتے دیکھے جاسکتے تھے یہ سب کچھ اقتدار کی ناک کے نیچے ہوتا رہا مگر مر تو غریب رہے تھے اس لئے فکر کسی کو نہ تھی۔ اقتدار کی سنگھاسن ڈولنے لگی، انتخابات کے دن قریب آنے لگے اور ووٹ فیصلہ کن قوت بننے جا رہا تھا تو فیصلہ سازوں کو اپنی غلطیوں کا ایک بار پھر احساس ہوا اورانہوں نے پوری ریاستی مشینری آٹھ ملزموں کی گرفتاری کے لئے 15 لاکھ کی آبادی میں جھونک دی۔ وہ آٹھ ملزم بھی اپنے ہی تراشیدہ ہیں۔ لیاری 8 روز سے آگ اگل رہا ہے، چاروں طرف سے پولیس کے پندرہ ہزار سے زائد جوانوں نے اسے گھیر رکھا ہے، اب تک 30 سے زائد افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی اسپتالوں میں پڑے ہیں۔ ایک سینئر پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ لیاری میں آٹھ نہیں آٹھ ہزار جرائم پیشہ عناصر ایک دوسرے سے کمربستہ ہیں اور ان جرائم پیشہ عناصر کی گزشتہ چار سالوں کے دوران کی جانے والی سرکاری سرپرستی کی وجہ سے وہ اس قدر منہ زور ہوگئے ہیں کہ اب سرکار کی طاقت کو بھی للکارنے لگے ہیں۔ چوہدری اسلم جیسے پولیس افسر کو آئی جی سے بھی زیادہ اختیارات دے کر کراچی پولیس ان کی کمان میں دے دی گئی ہے شہر کے تمام تھانوں میں سناٹا ہے پولیس کوئی اور کام نہیں کر رہی اور تمام ایس ایچ او اور ان کی سپاہ چوہدری اسلم کو جواب دہ ہیں اور ان سے عہد لیا گیا ہے کہ وہ آٹھ روز میں نتائج دکھائیں گے۔ آٹھ روز گزر گئے، آٹھ مزید گزرنے کو ہیں مگر لیاری کو ابھی تک فتح نہیں کیا جا سکا ہے۔ بچے دودھ کو بلک رہے ہیں،بجلی بند، پانی بند، بازار بند، دوائیاں ناپید، خوراک غائب، خوف کا راج ہے۔کیا یہ پیپلز پارٹی سے وفاداری کی سزا مل رہی ہے، اس کا فیصلہ تو بالٓاخر لیاری کے عوام کو خود کرنا ہوگا۔ اب ایک بار پھر پولیس اور سرکار کی گاڑیوں میں ایک دوسرے جرائم پیشہ لالو پپو گروپ کو بٹھا کر لیاری پر ان کا قبضہ کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ یہاں پہلے سے موجود گروپ پی پی کا مخالف ہو گیا ہے لہذا نیا گروپ جو پی پی کا حامی ہے اب اسے قبضہ دلایا جا رہا ہے۔
کراچی سمیت ملک بھر کے لوگوں نے ایک ٹی وی چینل پر لائیو پروگرام میں یہ بھی دیکھا اور سنا کہ کل تک سرکار کی آنکھوں کا تارا سمجھا جانے والا رحمٰن ڈکیت کا گدی نشین عذیر بلوچ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا صدر زرداری پہلے ٹین پرسنٹ تھے اب 100 فیصد ہوگئے ہیں اور اس نے دعویٰ کیا کہ آج کے بعد لیاری سے پیپلز پارٹی کا نام و نشان ختم ہوگیا اور اب کوئی رکن اسمبلی پی پی کے ٹکٹ پر لیاری سے کامیاب نہیں ہوگا۔ گزرے آٹھ دنوں میں کراچی کے شہریوں نے مسلسل یہ مناظر بھی دیکھے کہ پیپلز پارٹی کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی، جھنڈے اور پوسٹر جلا دیئے گئے اور تصاویر پاؤں تلے روندی گئیں، یہ سب کچھ بھٹوز کے لیاری میں ہو رہا ہے اس طرح تاریخ کا دھارا نئی منزل کی تلاش میں بہہ رہا ہے ایک بار پھر نئے فیصلے لکھنے کی طرف گامزن ہے۔
دوسری جانب لیاری میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس آپریشن چوتھے روز نسبتاً سست نظر آیا مگر تخریب کاروں نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ پیر کو دہشتگردوں نے راکٹ ، دستی بم کے حملے کیے جبکہ تخریب کاروں نے لیاری سے نکل کر شیر شاہ پراچہ چوک کے بس اسٹاپ بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 7افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، تخریب کاروں نے شیر شاہ میں 2/ مسافر گاڑیوں کو بھی جلادیا جبکہ ایک کار ملیر کے علاقے میں جلائی گئی، لیاری کے مکینوں نے احتجاجی ریلی بھی نکالی۔ ادھر لیاری آپریشن کی قیادت کرنیوالے ایس ایس پی، سی آئی ڈی ایکسٹریم ازم سیل چوہدری محمد اسلم خان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ آئندہ 48/ گھنٹے میں آپریشن مکمل کرلینگے تاہم چار روز سے جاری آپریشن کے سبب پیر کو بھی لیاری میں بازار اور دکانیں مکمل طور پر بند رہیں، سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا اور پورے ٹاؤن میں خوف و دہشت کے سائے منڈلاتے رہے۔ لیاری میں آپریشن کے دوران مختلف مقامات پر پی ایم ٹی تباہ ہونے کے باعث بجلی نہیں جس کی وجہ سے لیاری کے مکینوں کو پانی بھی میسر نہیں آرہا اور شہریوں کو دقت کا سامنا ہے۔ پیر کو لیاری کے مکینوں نے ماڑی پور روڈ پر احتجاجی ریلی بھی نکالی مگر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کرکے ریلی کے شرکاء کو منتشر کردیا، لیاری میں آپریشن کیخلاف ملیر، ماڈل کالونی سے بھی ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کے شرکاء نے تھانہ سعود آباد کی حدود میں ملیر ہالٹ کے پاس ایک کار کو آگ لگادی۔ قبل ازیں دہشتگردوں نے لیاری میں جمعہ بلوچ روڈ پر ایک راکٹ فائرکیا گیا جس کے ٹکڑے لگنے سے ایک 60/ سالہ نامعلوم شخص ہلاک جبکہ 40/ سالہ جہانگیر، 55/ سالہ ہارون، 8/ سالہ انیس، 40/ سالہ سلیم، 32/ سالہ یوسف، 28/ سالہ ظفر، 21/ سالہ عائشہ، 20/ سالہ سہیل اور ایک 30/ سالہ نامعلوم شخص زخمی ہوگیا۔ نیا آباد میں فائرنگ سے 25/ سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی۔تھانہ کلری کی حدود ہنگورہ آباد میں 23/ سالہ نامعلوم نوجوان کی ہاتھ پاؤں بندھی لاش ملی جسے تشدد کے بعد سر میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ لی مارکیٹ، بھیم پورہ، کمہار سنیما کے قریب مارے جانے والے راکٹ کے ٹکڑے لگنے سے 30/ سالہ ریاض، 40/ سالہ جمعہ، 25/ سالہ کشور اور 25/ سالہ شبیر زخمی ہوگیا جبکہ چیل چوک پر فائرنگ سے ہیڈ کانسٹیبل 30/ سالہ عباس ولد ساجد زخمی ہوگیا۔ دریں اثناء دہشت گردوں کے ایک گروپ نے موٹر سائیکلوں پرنکل کر شیرشاہ پراچہ چوک کے بس اسٹاپ پر کھڑے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 25/ سالہ رضوان ولد محمد ریاض، 28/ سالہ عبدالمجید اور جنید انصاری ہلاک جبکہ 45/ سالہ احمد اور 24/ سالہ عظیم ولد سراج زخمی ہوگئے۔ بعد ازاں تخریب کاروں نے 2/ منی بسوں نمبر PE-4233 اور PE-4076 کو بھی آگ لگادی۔ قبل ازیں ہلاک شدگان کی لاشیں اور زخمیوں کو چھیپا اور کے کے ایف ایمبولینسز کے ذریعے سول اسپتال پہنچایا گیا آخری اطلاعات آنے تک لیاری میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن جاری تھا۔رات گئے چیل چوک پر راکٹ حملے میں ایک سپاہی جاں بحق ہوگیا، جبکہ پولیس دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں نوالین، گل محمد لین اور سیفی لین میں داخل ہوگئی جس کے دوران سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جومسلسل جاری تھا، تخریب کاروں نے چیل چوک پر2راکٹ مارے جبکہ کلری تھانے کے قریب پولیس کی بکتر بند گاڑیوں پر 3 دستی بم پھینکے گئے چیل چوک پر راکٹ حملے میں ریپڈ رسپانس ایسٹ کا سپاہی شہباز جاں بحق ہوا، جس کی لاش سول اسپتال پہنچائی گئی ، نیز لیاری ایکسپریس وے پر تخریب کاروں نے 25سالہ پرویز ولد امام بخش کوہاتھ پاؤں باندھنے کے بعد گولیاں مارکر پھینک دیا، جسے شدید زخمی حالت میں سول اسپتال پہنچایا گیا۔

Monday, April 30, 2012

Qabar Se Ek Apeal

قبر سےایک اپیل 





قبر سےایک ایمیل 

میرے ایک واقف کار نے یہ واقعہ سنایا۔ کہتا ہے اُس کا ایک بہت اچھا دوست تھا جو پچھلے دنوں روڈ ایکسیڈنٹ میں مارا گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اُس پر اپنا رحم فرمائے اور اُس کی خطاوں کو معاف فرمائے۔ مرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ وہ مر گیا، سب نے مرنا ہے۔ لیکن اس کی موت سے کچھ قباحتیں اور مشکلات کھڑی ہوئی ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ مرنے والا انٹرنیٹ سے متعلقہ امور میں مہارت رکھنے والا شخص تھا۔ فحش مواد والی ویب سائٹس اُسکی کمزوریاں تھیں اور ننگی تصاویر جمع کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

حتیٰ کہ اُس نے اپنی ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی تھی جس پر ہر طرح کی فحش تصاویر کا ایک بہت بڑا مجموعہ لوگوں کی تفریح طبع کیلئے موجود تھا۔ ویب سائٹس کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ رجسٹرڈ ممبران کو نئی تصاویر یا ہر کچھ دنوں کے بعد چند تصاویر کا ایک مجموعہ خود بخود ہی ان کے ایمیل پر پوسٹ ہو جاتا تھا۔

اب میرے اس دوست کی ناگہانی موت نے ہمارے لیئے یہ مصیبت کھڑی کر دی ہے کہ ہمیں اس کی ویب سائٹ کا پاس ورڈ معلوم نہیں ہے تاکہ کم از کم اس ویب سائٹ کو بند کریں یا کوئی دوسرا حل نکالیں۔

کہتا ہے: جب میں مسجد میں بیٹھا اس کی نماز جنازہ کا انتظار رہا تھا تو یہی سوچ رہا تھا اور جب ہم سب اس کی لاش کو اُٹھا کر قبر کی طرف جا رہے تھے تو بھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ قبر میں جا کر کس چیز کا سامنا کرے گا؟ ننگی تصاویر کا؟ حسبنا اللہ و نعم الوکیل

قبرستان میں قبروں کی وحشت اور ویرانگی مگر جنازے کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں کے رش کے باوجود میرا دماغ بس یہی بات ہی سوچتا رہا۔ میں نے قبر کے اندر ایک نظر ڈالی اور افسوس کے ساتھ سوچا پتہ نہیں میرے دوست کا یہاں کیا حشر ہوگا؟

میرے دوست کے کچھ قریبی احباب تو رو بھی رہے تھے اور میں یہ سوچ رہا تھا کیا انکا رونا میرے دوست کے کسی کام آ سکے گا؟

ہم نے میت دفنائی اور واپس چل دیئے۔ جی ہاں اپنے دوست کو قبر میں اکیلا چھوڑ کر، اسکا سارا مال اور اس کے سارے اھل خانہ واپس، وہاں رہا تو اس کے اعمال تھے، اور کیا پتہ اس کے کیسے اعمال تھے؟

میرے دوست کی ماں اکثر خواب میں دیکھتی کہ لڑکے اس کے بیٹے کی قبر پر آتے ہیں اور پیشاب کر کے چلے جاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ مجھ سے پوچھتی کہ یہ کیسا خواب ہے اور اسکی کیا تعبیر ہوگی؟ اس بیچاری کو کیا پتہ کہ اس خواب کے پیچھے کیا راز تھے!

میں اپنے آپ کو کہتا کہ خواب کی تعبیر تو واضح ہے لڑکے وہ لوگ تھے جن کو میرا دوست ننگی تصاویر بھیجا کرتا تھا اور وہ لڑکے یہ تصاویر آگے سے آگے پہنچاتے تھے۔ اللہ اکبر، یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا تھا اور کس کس کے گناہ میرے دوست کو ڈس رہے ہونگے؟

میں نے اپنے دوست کی ویب سائٹ کی ہوسٹنگ کمپنی سے رابطہ کیا تاکہ وہ اس ویب سائٹ کو بند کردیں۔ مگر انہوں نے معذرت کر لی کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ میرے اصرار پر انہوں نے مجھے یہاں تک بھی کہا کہ وہ مجھ پر یقین نہیں کر سکتے کیونکہ جس نام اور جس پاس ورڈ سے یہ ویب سائٹ خریدی اور بنائی گئی تھی وہ معلومات میرے پاس نہیں تھیں۔ میں نے انہیں غصے میں بھی لکھا کہ لوگو، میرے دوست پر رحم کر دو، وہ بیچارہ مر گیا ہے مگر سب بے سود تھا۔

میں اکثر بیٹھ کر اپنے دوست کی حالت پر سوچتا جو کہ مجھے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کے مصداق نظر آتا جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں میں سے کچھ شر کے راستے کھولنے والے اور خیر کے بند کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور میں تڑپ کر رہ جاتا میرا دوست کس طرح لوگوں کے گناہ اُٹھائے گا جن کیلئے اس نے شر کے دروازے کھولے تھے۔ اور کس طرح قیامت کے دن ان سب گناہوں کو اپنے کندھے پر لاد کر محشر میں جائے گا؟

میں جانتا ہوں کہ میری ان باتوں کا کسی پر کچھ اثر نہیں ہونے لگا، کیونکہ نوجوان تو اس کو محض وقت گزاری جانتے ہیں، جب کہ اللہ کی پناہ؛ ان تصاویر کے نتائج کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لڑکوں نے ایسی تصاویر دیکھیں، اپنی خواہشات کے سامنے بے بس ہوئے اور گناہوں کے گڑھوں میں کرتے چلے گئے اور کتنی ہی معصوم بچیاں بربادیوں میں پھنستی چلی گئیں۔

میرا دوست تو مر گیا مگر میں جانتا ہوں کہ روز قیامت اس سے ضرور سوال کیا جائے گا کہ تو نے کتنی ایسی تصاویر ہر اپنی نظریں ڈالیں اور تیری دوسروں کو بھجی ہوئی تصویروں پر کس کس کی نظریں گئیں؟ تو نے کدھر کدھر یہ تصاویر پھیلائیں اور اور جن تک تیری بھیجی ہوئی تصاویر گئیں انہوں نے کس قدر آگے ان کو آگے پھیلایا؟

مجھے اب بالکل کچھ نہیں سوجھ رہا کہ اس سلسلے کو میں کس طرح روک دوں؟ اللہ میرے دوست پر رحم فرمادے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمار خاتمہ اچھا لکھ دے۔ اور اللہ کرے یہ قصہ عقل والوں کیلئے عبرت کا سامان ہو۔ آمین یارب

TITANIC (An Austrailian Rich Person Going to built an other TITANIC)

alt

آسٹریلیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک کلائیو پامر نے اعلان کیا ہے کہ وہ سو برس قبل سمندر برد ہوجانے والے شہرہ آفاق ٹائٹینک بحری جہاز کی طرز پر ٹائٹینک دوئم تیار کریں گے۔پامر کے مطابق یہ بحری جہاز بالکل ٹائٹینک کی طرز پر بنایا جائے گا اور یہ اپنا پہلا سفر سن دو ہزار سولہ میں برطانیہ سے نیویارک کی طرف کرے گا۔ خیال رہے کہ پہلے ٹائٹینک نے بھی اپنا اولین سفر برطانیہ سے نیویارک ہی کی جانب کیا تھا، تاہم ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر یہ جہاز اور اس کے بیشتر مسافر ڈوب گئے تھے۔ ہالی وڈ کے معروف ہدایت کار جیمز کیمرون نے اس موضوع پر ٹائٹینک نام کی ایک فلم بھی بنائی تھی جسے عالمگیر شہرت حاصل ہو ئی تھی۔کلائیو پامر کے مطابق یہ بحری جہاز ایک چینی کمپنی کے تعاون سے تعمیر کیا جائے گا۔ وہ اس بارے میں کہتے ہیں، ’یہ اصل ٹائٹینک ہی کی طرح شاندار ہوگا تاہم اب اسے اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی اور جدید حفاظتی نظام سے لیس کیا جائے گا۔پامر، جن کا تعلق کان کنی کے شعبے سے ہے، کہتے ہیں کہ انہوں نے چینی نیوی کو دعوت دی ہے کہ وہ ٹائٹینک دوئم کے ساتھ نیو یارک تک کا سفر کرے۔پامر کی جانب سے یہ اعلان پیر کے روز سامنے آیا ہے۔ اس برس پندرہ اپریل کو ٹائٹینک کے سمندر برد ہونے کے سو سال مکمل ہونے کی یاد منائی گئی تھی۔ پامر کا کہنا ہے کہ ان کا یہ نیا جہاز بنانے کا مقصد ان خواتین و حضرات کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے اصلی ٹائٹینک پر کام کیا تھا۔ ’’ان لوگوں نے ایک ایسا کام کیا تھا جس کو سو سال بعد بھی اسی دلچسپی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہی سوچ آئندہ سو سال بھی جاری رہے۔ٹائٹینک کو وائٹ اسٹار لائن کمپنی نے تعمیر کیا تھا جو کہ سو برس پہلے دنیا کی سب سے بڑی بحری کمپنی تھی۔ پامر کی کمپنی کا نام بلیو اسٹار لائن ہے۔ ٹائٹینک دوئم اپنے پیش رو کی طرح دو سو ستر میٹر لمبا، ترپن میٹر اونچا اور چالیس ہزار ٹن وزنی ہوگا۔ اس جہاز میں آٹھ سو چالیس کمرے ہوں گے۔ پامر نے یہ نہیں بتایا کہ اس جہاز کی تعمیر میں کتنی لاگت آئے گی۔

اسامہ طالبان کےساتھ براہ راست رابطے میں تھے:خفیہ دستاویز میں انکشاف


alt

القاعدہ کے مقتول لیڈراسامہ بن لادن کے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں واقع مکان سے امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات کو اب وقفےو قفے سے منظرعام پر لایا جارہا ہے اور ان کے مطابق اسامہ بن لادن ،افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں اور دوسرے جنگجوؤں کے درمیان جنگ زدہ ملک میں نیٹو فوجیوں پر حملوں کے لیے منصوبہ بندی سمیت قریبی تعلقات کار قائم تھے۔واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے برطانوی اخبار گارڈین کو ان خفیہ دستاویزات کے مندرجات سے آگاہ کیا ہے جن کے مطابق اسامہ بن لادن ،ان کے نائب ایمن الظواہری اور افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے بہت قریب تھے اور ان کے درمیان ابلاغی روابط قائم تھے۔امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات میں وہ خط وکتابت اور یادداشتیں بھی شامل ہیں جو اسامہ بن لادن نے لکھوائی تھیں اور ان میں انھوں نے اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ بلاامتیاز حملوں سے گریز کریں کیونکہ اس طرح مسلمانوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔گارڈین نے لکھا ہے کہ ''امریکی اور افغان حکام نے حال ہی میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کو دہشت گردی کی مذمت پر آمادہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان دستاویزات سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر القاعدہ یا اس کے ہم خیال جنگجوؤں کو محفوظ ٹھکانوں کی پیش کش کی ہے۔اس لیے اس کے تناظر میں طالبان اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان قریبی تعاون اور اتحاد کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔امریکی حکام ماضی میں افغانستان میں نیٹو فوجیوں سے لڑنے والے مقامی طالبان اورالقاعدہ کے جنگجوؤں کے درمیان امتیازی لکیر کھینچنے کی بھی کوشش کرتے رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے بھی گذشتہ سال پابندیوں کا ہدف القاعدہ اور طالبان ارکان کی الگ الگ فہرست جاری کی تھی۔اخبار نے لکھا ہے کہ ''اسامہ بن لادن کی اپنے نائب ایمن الظواہری اور طالبان کے قائد ملامحمد عمر سے خط وکتابت ایبٹ آباد میں ان کے کمپاؤنڈ سے ملنے والے ان کے ایک کمپیوٹر کے ڈیٹا میں محفوظ تھی۔ ان کا کورئیر ان خطوط کو میموری اسٹکس پر محفوظ کرکے شہر میں انٹرنیٹ کیفے کے ذریعے ان کے مکتوب الیہان کو بھیجتا تھا۔اسی کورئیر کا سراغ لگانے کے بعد امریکی سی آئی اے کے اہلکار القاعدہ کے مقتول سربراہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے''۔اخبارکی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی کمپیوٹر پر تحریریں ان کی ہلاکت سے صرف ایک ہفتہ قبل سے لے کر کئی سال پرانی تھیں اور ان سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ بوکو حرام کے علاوہ متعدد دوسرے گروپوں سے براہ راست یا بالواسطہ ابلاغی رابطے میں تھے۔دستاویزات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بوکوحرام کے سربراہ گذشتہ اٹھارہ ماہ سے القاعدہ سے اعلیٰ سطح پر رابطوں میں تھے۔واضح رہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں 2مئی 2011ء کو امریکی خصوصی فورسز کی ایک چھاپہ مار کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے بعد سے امریکی اور مغربی میڈیا اور خفیہ ادارے القاعدہ کے مقتول لیڈر کا پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے ناتا جوڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔امریکی اس بات کا سراغ لگانے کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے صرف تین گھنٹے کی مسافت پرواقع ایک فوجی شہر میں کیسے بڑے پُرسکون انداز میں رہ رہے تھے اور ان کی موجودگی کا چار پانچ سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود سراغ کیوں نہیں لگایا جاسکا تھا۔اسامہ بن لادن اپنے خاندان کے ساتھ جس مکان میں رہ رہے تھے،اس کو اب مسمار کردیا گیا تھا اور وہاں اب مبینہ طور پر ایک پارک بنایا جائے گا۔

Story Of Lauren Booth a half-sister of Cherie Blair Who Accepted The Islam


سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر کی سالی لورین بوتھ کا قبولِ اسلام نیا نہیں مگر ان کی زندگی کی پوری کہانی ایک نئی بات ضرور ہے۔ انہوں نے پہلی بار اپنی زندگی کی کہانی کھل کر سنائی ہے جو کویت کے ماہنامہ المصباح نے شائع ہے اور ان کے شکریہ کےساتھ ہم آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔
-------------


”میں اسلام قبول کرنے کے لیے ہرگز سرگرم نہ تھی، نہ ہی میں اسلام کا مطالعہ کر رہی تھی، بات دراصل یہ ہے کہ جب آپ ایک مسلم معاشرے میں مسلمانوں کے درمیان رہ کرایک طویل عرصے سے کام کر رہے ہوں تو لامحالہ ان سے روزمرہ کی گفتگو کے دوران اُن کے دین اور قرآن کے متعلق کچھ نہ کچھ معلومات حاصل ہوتی ہی رہتی ہیں، میں یہ سمجھتی ہوں کہ میں نے اتفاقاً مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہوئے تھوڑا بہت قرآن کے بارے میں جانا، اس دوران یہ بھی اندازہ ہوا کہ اگر آپ نے اسلام میں دلچسپی لیتے ہوئے اسکے بارے میں جاننے کی خواہش ظاہرکی تو مسلم اُمہ کی تمام تر محبت،یگانگت اور خلوص کو آپ یقینا محسوس کئے بنا نہ رہ سکیں گے“۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے اسلام،مسلمانوں کی محبت اور دوستی میں قبول نہیں کیا بلکہ جن حالات میںمیں مسلمانوں کے درمیان رہ کر اک طویل مدت تک کام کرتی رہی ہوںاس دوران نہ جانے کس وقت میرا اللہ سے ربط قائم ہو گیا ، میں نے اللہ کو زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کی اور اب میں امیدکرتی ہوں کہ میںاپنی اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب ہوسکی ہوں۔
اسلام کی جانب یہ سفر میری زندگی کانہایت خوشگوار سفر ہے،مجھے نہیں معلوم کہ میں کب اس راہ کی مسافر بنی، حالات سازگار ہیں اور ساتھی مسافر گرمجوش، اس سفر میں میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہوں اور وقت کی گرم آندھی اور راہ کی تمام رکاوٹوں کے باوجود اسلام کے راستے پر میرا یہ سفر تیزی سے گامزن ہے۔
اگر مجھ سے یہ سوال پوچھا جائے کہ ایک انگریز صحافی، ایک تنہادو بچوں کی ماں نے مغربی میڈیا کے سب سے ناپسندیدہ مذہب کو کس طرح قبول کیاتو اس کے جواب میں میں اپنے اس انتہائی روحانی تجربے کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گی جو مجھے ایران کی ایک مسجد میں ہواجس نے میرے دل کی دنیا بدل دی ،مگر اسلام قبول کرنے کے حوالے سے اگر ماضی میں جھانکا جائے تو اسکی بنیاد غالباً اس وقت پڑ گئی تھی جب میں جنوری 2005ء میں اکیلی فلسطینی علاقے ویسٹ بنک (مغربی کنارہ) میں برطانوی جریدے ’دی میل‘کے لیے فلسطینی صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیے پہونچی تھی، یہاں میں یہ بات واضح کر دو ں کہ اپنے اس سفر سے پہلے مجھے کبھی بھی مسلمانوں یا عربوں کے ساتھ رہنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا
جب میں نے اپنا مشرقِ وسطی کا یہ سفر شروع کیا تھا تو میرا ذہن مغربی میڈیاکے اس پروپگنڈہ کی وجہ سے سخت مخدوش تھا جو اس نے دنیا کے اس حصے کے لوگوںکے بارے میں جو محمد صلى الله عليه وسلم کے ماننے والے تھے جاری رکھا ہوا تھا اور انہیں بنیاد پرست ، متعصب،مذہبی انتہاءپسند، خودکش حملہ آور، ا غوا کاراور جہادی قرار دیاجاتا تھا جبکہ میرا یہ تجربہ ان تمام تصورات کے بالکل برعکس ثابت ہوا۔
میں فلسطینی مغربی کنارے کے علاقے میں اس حال میں داخل ہوئی تھی کہ میرے جسم پر میرا کوٹ بھی نہیں تھا کیونکہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی حکام نے میرا سوٹ کیس اپنے قبضے میںلے لیا تھا، اور میں ’رام اللہ‘ کے مرکزی علاقے میں شدید سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی چلی جا رہی تھی کہ یکایک ایک بوڑھی فلسیطینی خاتون نے میرا ہاتھ تھام لیا، تیزی سے عربی زبان میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے وہ مجھے ملحقہ گلی میں واقع ایک گھر میں لے گئی، سب سے پہلے میرے ذہن میں جس خدشے نے جنم لیا وہ یہ تھا کہ کیا میں ایک بوڑھی عورت کے ہاتھوں اغواءہوگئی ہوں،کئی منٹ تک میں خاموشی سے اسے اپنی بیٹی کے کمرے میں موجود کپڑوں کی الماری سے کچھ ڈھونڈتے ہوئے دیکھتی رہی ، بالآخراس نے الماری سے ایک کوٹ،ایک حجاب اور ایک ٹوپی نکالی اور مجھے دیکر دوبارہ اسی گلی میں چھوڑ دیا جہاں سے وہ مجھے اپنے گھر لے گئی تھی۔میرے سر پر گرمجوشی سے بوسہ دیا،اور اپنی راہ ہولی، حیرت کی بات یہ ہے اس سارے عمل کے دوران ہمارے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہ ہوا۔
یہ سخاوت اور فیاضی کی ایک زندہ مثال تھی جسے میں کبھی نہ بھول پاؤں گی اور جس کا مجھے اس کے بعد وہاں رہتے ہو ئے کئی موقعوں پر بارہا تجربہ ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری عملی زندگی میں روحانی گرمجوشی کا ایسا مظاہرہ شاذ ونادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
اس سفر کے بعد آنے والے تین برسوں میں میرا مقبوضہ علاقوں میں متعدد بار جانے کا اتفاق ہوا۔ ابتداً میرا وہاں اپنے صحافتی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں جانا ہوتا رہا مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا میرے وہاں کے سفر کی نوعیت میں تبدیلی آتی گئی اور پھر میں نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے اور انکے لیے امدادی کام کرنے والے گروپوں کےساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آنا جانا شروع کردیا۔
اس دوران میں نے وہاں ہر مذہب اور عقیدے کے حامل فلسطینیوں کی بدحالی اور تکالیف کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اوردل سے محسوس کیا۔یہاں میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی عقیدے کے لوگ بھی جو تقریباً دو ہزار برس سے ارضِ مقدس پر رہ رہے ہیں وہ بھی مسلمانوں کی طرح اسرائیلی جارحیت کا شکار ہیں۔
وہاں آتے جاتے اور فلسطینی مسلمانوں کے درمیان رہتے ہوئے ان شاءاللہ، ماشاءاللہ اور الحمد للہ جیسے کلمات میری زبان کا حصہ بنتے رہے جو فلسطینی مسلمان اپنے روزمرہ کی گفتگو میں شکر ، تعریف اور امید کے اظہار کے طور پر استعمال کرتے تھے۔اس سرزمین کے لوگوں کے حوالے سے مغربی میڈیا نے جوخوفناک تاثر مغرب کے لوگوں کے اذہان میں پیدا کردیا ہے اور جسکا دہشتناک تصور لے کر میں پہلی بار اس خطے میں آئی تھی اب اتنا عرصہ ان لوگوں میں رہنے کے بعد وہ تاثر یکسر غائب ہوگیا تھا ۔ اب میں بغیرکسی خوف و تردد کے مختلف مسلم گروپوں سے ملنے لگی تھی ا ور اس طرح اس سرزمین کے ذہین،عقلمند اور سب سے بڑھ کر مہربان اور فیاض لوگوں کے درمیان مجھے رہنے اور انہیں سمجھنے کا موقع ملا۔
فلسطین کی مسلمان خواتین‘ اسلام سے میری خصوصی لگن اور پسندیدگی کا سبب بنیں، آپ اندازہ کریں کہ سر سے پیر تک برقع میں ملفوف خواتین کو ایک انگریز عورت نے کس نظر سے دیکھا ہوگا۔ اسکے برعکس یورپ میںپیشہ ور خواتین اپنی خوبصورتی اور ظاہری وضع قطع کی زیادہ سے زیادہ نمائش میں خوشی محسوس کرتی ہیں اور وہاں ایسا کرنا روزمرہ کے معمولات میں شامل ہے ،بالکلمعیوب نہیں سمجھا جاتا۔
جب کبھی مجھے کسی پروگرام کو نشر کرنے کے لیے ٹیلیویژن سٹیشن پر مدعو کیاجاتاتھا تو میں یہ دیکھ کر حیران ہو جاتی تھی کہ خواتین میزبان پندرہ منٹ کے دورانیہ کے سنجیدہ نوعیت کے پروگرام پیش کرنے سے پہلے گھنٹہ بھر تک بالوں کی تزئین وآرائش اور میک اپ پر صرف کیا کرتی تھیں۔کیا اسی کا نام آ ز ادی ہے؟ میں سوچتی ہوں کہ اس آزاد مغربی معاشرے میں لڑکیوں اور خواتین کو کتنا حقیقی احترام دیا جاتا ہے۔
2007 ءمیں مجھے لبنان جانے کا اتفاق ہوا، میں نے وہاں چار دن یونیورسٹی کی طالبات کے ساتھ گزارے جو سب کی سب حجاب پہنی ہوئی تھیں اور جن کے سر کے بال تک نظر نہیں آتے تھے۔ وہ خوبصورت، خودمختار اور صاف گوتھیں۔ا ور قطعاً ایسی ڈرپوک اور بزدل نہیں لگ رہیں تھیں کہ کوئی زبردستی انکی مرضی کے برخلاف انہیں پکڑ کر انکی شادی کر دیتا جیسا کہ میرے ذہن میں تصور تھاجو میں نے مغرب کے اخباروں میں پڑھ کر قائم کیا تھا۔
جتنا زیادہ وقت میں مشرقِ وسطیٰ میں گزار رہی تھی اتنی ہی زیادہ تبدیلی میں اپنے اندر محسوس کر رہی تھی،میں انہیں خود کومسجد میں لے جانے کے لیے کہتی ، اپنے آپ کو میں یہ کہہ کر مطمئن کرلیتی کہ میں سیاحت کررہی ہوں مگر درحقیقت مساجد مجھے بے حد دلکش لگتی تھیں، مجسموں سے پاک اور خوبصورت غالیچوں سے آراستہ۔
لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے اب تک کتنا قرآن پڑھا ہے اور میں یہ کہتی ہوں کہ میں نے اب تک صرف سو صفحات کاباترجمہ مطالعہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کہ میری اس بات کو کوئی طنزیہ نظروں سے دیکھے میں صرف یہ گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ اس عظیم کتاب کی ایک وقت میں دس لائنیں پڑھنا چاہیے، مکمل تدبرکے ساتھ۔ اسطرح کہ جو کچھ آپ پڑھ رہے ہوں اس کو اچھی طرح سمجھ بھی رہے ہوں اور اگر ممکن ہو تو ان دس لائنوں کو زبانی یاد بھی کرلینا چاہیے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس قرآن کو اللہ کی نازل کی ہوئی کتابِ ہدایت سمجھ کر پڑھنا چاہیے نہ کہ کوئی رسالہ سمجھ کر۔میں ان شاءاللہ عربی زبان بھی سیکھنے کی کوشش کروںگی مگر اس میں خاصہ وقت لگے گا۔
اسلام کی تعلیمات سے واقف ہونے کے لیے بہت زیادہ مطالعے کی ضرورت پڑتی ہے، شمالی لندن کی چند مساجد سے میرا رابطہ ہے اور پُرامید ہوں کہ میں کم از کم ہفتہ میں ایک بار وہاں جایا کروں۔
اعتدال پسند انہ لباس کا انتخاب اتنا مشکل معاملہ نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے۔ حجاب پہننے کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ باہر پہلے سے بھی زیادہ کم وقت میں جاسکتے ہیں کیونکہ حجا ب کی وجہ سے آپ کو بہت سارا وقت بالوں کی آرائش میں ضائع نہیں کرنا پرے گا۔ چند ہفتے قبل جب میں نے پہلی بار اپنے سر پرحجاب باندھا تو مجھے بہت شرم سی محسوس ہوئی تھی۔ چونکہ ان دنوں سردی کا موسم تھا تو میراحجاب پہننا کسی نے محسوس نہ کیا البتہ گرمی کے موسم میں حجاب پہن کر نکلناایک چیلنج ہے،مگر بریطانیہ ایک روادار ملک ہے اور ابتک مجھے کسی نے حقارت کی نظروں سے نہیں دیکھا،حجاب کے ساتھ نقا ب میں اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتی مگر برقع مجھے زیادہ موزوں محسوس ہوتاہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد میڈیا میں ردّعمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے میرے اس عمل سے انہیںموقع ہاتھ آگیا اور بہتان اور دشنام طرازی کا سلسلہ شرو ع ہوگیا مگر حقیقتاً ان کا ہدف میری ذات نہیں تھی بلکہ اسلام کا غلط تصور جو انہوں نے اپنے ذہنوں میں قائم کر لیا ہے دراصل وہی سوچ اس سارے قصے کے پیچھے کارفرما تھی،مگر میں نے زیادہ تر منفی تبصرے نظرانداز کردئے کیونکہ کچھ لوگ روحانیت کے معنوں سے ناآشنا ہوتے ہیں اور اس موضوع پر انکے ساتھ کسی قسم کا بحث ومباحثہ انہیں مزیدخوفزدہ کردیتا ہے۔
میرے اسلام قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایک مشورہ مجھے اچھا لگا اور میں نے اس پر عمل بھی کیاکہ میں ایسے مواد کامطالعہ نہ کروں جو ناگوار خاطر گزریں،نہ ہی بلاگس (Blogs)میں موجود منفی تبصروں پر کان دھروں ۔ اسطرح میں نے بہت سی تصوراتی اور ناخوشگوار باتوں کی طرف مطلق دھیان نہ دیابلکہ اپنی تمام تر توجہ اس بات پر مبذول کر لی ہے کہ مسلم امہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پیار اور تعلق کو مضبوط ومربوط کیا جائے۔
اپنے پیشے کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے انکا سوال یہ تھاکہ کیا حجاب پہن کر وہ اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکےں گیمجھے علم ہے کہ بہت ساری مسلم خواتین نے ٹیلیویژن اور صحافت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیںاور مستقل مزاجی کے ساتھ شائستہ مغربی لباس پہنتی ہیں،میں ابھی اسلام میں نئی نئی داخل ہوئی ہوں اور اسلام کے بنیادی اصولوں سے واقفیت حاصل کر رہی ہوں، اسلام سے میرے تعلقات کی نوعیت الگ قسم کی ہے۔ میرا قطعاًیہ نظریہ نہیں ہے کہ اسلام کے بعض اصول تو میں اپنا لوں اور بعض کو نظر انداز کردوںبلکہ میں اسلام کو مکمل طور پر اپنے اندر سمو لینا چاہتی ہوں۔مستقبل کے حوالے سے بھی غیر یقینی حالات کا شکار ہوں، میں روزانہ ہی کچھ نہ کچھ اپنے اندر تبدیلی اور ایک نیاپن محسوس کرتی ہوںاور سوچتی ہوں کہ یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا ۔
اپنے معاشرتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انکا کہنا ہے کہ میں اس حوالے سے اپنے آپ کو نہایت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میرا اسلام قبول کرنا میرے اہم ترین رشتوں پر کسی طور بھی اثر انداز نہیں ہوا ہے۔ میرے اس فیصلے سے میرے غیر مسلم دوستوں کا ردّعمل تجسسانہ تھا نہ کہ مخالفانہ اور معاندانہ۔وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم بدل جاؤگی؟ کیا ہماری دوستی برقرار رہ سکے گی اور کیا ہم اب بھی شراب نوشی کے لیے جاسکیں گے؟ انکے پہلے دو سوالوں کا جواب تو میرے پاس اثبات میں ہے مگر تیسرے سوال کا جواب قطعا انکار میں۔جہاں تک میری والدہ کا تعلق ہے تو وہ میری خوشی میں خوش ہیں۔ میرے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ میں کسی مرد سے تعلقات کے بارے میں سوچوں،میری ازدواجی زندگی انحطاط کا شکار ہے اور یہ طلاق پر منتج ہونے جارہی ہے ، کسی مناسب وقت پر اگر میں نے دوبارہ شادی کے بارے میں سوچا تو وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگی اور میرا ہونے والا شوہر یقینا ایک مسلمان ہوگا۔


یہ تھی برطانیہ کی اس خاتون کے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے بات چیت۔


آئیے ہم سب ملکر اللہ کے حضور دعا کریں کہ وہ اس نومسلم بہن کواسلام پر ثابت قدم رکھے اور حالات کی سختیاں اور بادسموم کے مخالف جھونکے ان کے پایہ استقلال میں جنبش پیدا نہ کرسکیں بلکہ انکے عزم اورحوصلے روز افزوں جواں اور ہمت بلند سے بلند ہوتی جائے اور یہ دین کی داعی اوزبردست مجاہدہ بنے اور خصوصاً بریطانیا میں اسلام اور مسلمانوں کو ان کی وجہ سے تقویت ملے ۔ آمین ثم آمین۔

Sunday, April 29, 2012

Underground mosque Picx Just Visit

Underground mosque Pics..!


Hadrat Anas Radi ALLAH Taala Anhu reported that the Messenger of Allah Peace And Blessings Be Upon Him has said, “Everything has a heart, and the heart of the Qur’an is Yasin. Allah records anyone who recites Yasin as having recited the Qur’an ten times.”
[Sunan Tirmidhi, Vol 2, Page 116 - Sunan Daarimi, Vol 2, Page 336]

RAW and Mossad Involved in Missing Persons Issue: ISI

350892 RawMossadPakistanMap 1331906528 546 640x480 RAW and Mossad Involved in Missing Persons Issue: ISI
ISLAMABAD: The counsel for Inter-Services Intelligence agency (ISI) and Military Intelligence (MI) has revealed in the Supreme Court that Indian spy agency Researchand Analysis Wing (RAW) and Israel’s Mossad are active in Pakistan. He was speaking during the hearing of the missing persons case.
He said that they were behind kidnappings in the country and were being helped by terrorist groups.
The chief justice asked the defence counsel if the agencies had any credible information of the involvement of RAW and Mossad, and why they did not take any against them. “We did not bar you from taking action against RAW and Mossad.”
Terming the intelligence agencies’ reply on Adiala missing persons unsatisfactory, the apex court on Friday took suo motu notice against the abduction of a boy who used to provide food at camps set up by the relatives of missing persons outside parliament.
A three judge-bench headed by Chief Justice Iftikhar Muhammad Chaudhry directed Inspector General of Police Islamabad and Attorney General of Pakistan Maulvi Anwarul Haq to submit a report of the incident by March 17 and present the abductee before the court on March 19.
Addressing Maulvi Anwarul Haq and Raja Irshad, counsel for ISI and MI, the chief justice said that this time a man was abducted right under the nose of the federal government. Advocate Tariq Asad the counsel for missing persons told the court that Omar Mehmood Khan was picked up by the intelligence agencies because he used to serve the food to the families at the missing persons’ camp at D-Chowk (in front of the Parliament).
Raja Arshad rejected the allegations, stating that the military intelligence agencies were not involved in missing persons’ episodes.
A family recently returned from Canada through a letter had informed the Human Rights Cell of the apex court that one of their family members, Omar Mehmood Khan, 24, was abducted by the agencies on March 10 near Orchid Scheme in Islamabad.
“After going through the contents of the letter last night, we issued notices to IGP Islamabad that what kind of high-handedness was underway by none other than officials of agencies, even in the federal capital city,” the chief justice informed the attorney general.
The letter suggests that Omar was kidnapped in the same style as was used in picking up many other missing persons. Men driving two double cabins with tinted glasses, a black corolla, a white Suzuki Baleno and a Suzuki Mehran picked up the boy in front of his father, mother and a younger brother.
Omar’s mother, Dr Rubina was also present in the court today. The chief justice, while calming her down, said that “we will not allow anyone to act above the law”, adding that the agencies were not above the Constitution.
Advocate Raja Irshad asked the court why all blame was leveled on the ISI and MI. The chief justice said that, “We respect our armed forces and intelligence agencies, but when they detracted then the court and media expressed concerns and you cannot stop us from this.”
During the last hearing, the court had rejected explanatory reports submitted by the lawyer of the agencies and termed them unsatisfactory, and had also sought a detailed report from the chief secretary of Khyber-Pakhtunkhwa. The K-P chief secretary submitted a report on the health of inmates today, which was appreciated by the court.
Counsel for detainee Hafiz Majid, Advocate Tariq Asad informed the court that his client was suffering from Cancer and Hepatitis C, and asked that permission be granted to shift him to Shaukat Khanum Cancer Hospital in Lahore.
The court was informed that the health condition of at least three prisoners was still not satisfactory. The chief justice asked Raja Irshad how the detainees were being treated. “Were they not human? Why a fair trial right was denied to them? We will proceed against you after deciding initial things – you will tell us how the four of them died in your custody.”
Advocate general of K-P will submit a report within three days on which internment centers inmates will be kept at. The court also asked him to arrange a place where relatives of these inmates could see them easily.

World most Expensive Development Plan In Pakistan (World's Top Curruption News)