This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !
Showing posts with label Lahoe Top News. Show all posts
Showing posts with label Lahoe Top News. Show all posts

Thursday, May 24, 2012

ENGLISH LEARNING COURSE 01


It is Very Easy course to Learn English Full Course.

Tuesday, May 1, 2012

International Labor Day: Google Doodle marks May Day



 
Washington: Google is celebrating “International Workers’ Day” in selected countries showing a really strong woman.
International Workers’ Day (also known as May Day) is a celebration of the international labour movement and left-wing movements.
May 1 is observed as a national holiday in more than 80 countries of the world.
Today Google Doodle is changing to a worker holding up the Google Logo symbolizing International Worker’s Day 2012 / May Day.
Interestingly May Day Google Doodle was not available internationally at the time of filing this news.

US deploys most advanced F-22 fighters in UAE amid Iran, Arab tensions


Washington: The United States has deployed sophisticated F-22 fighter jets to the United Arab Emirates amid deepening tensions between Iran and its UAE over three Islands, news agencies reported.
The F-22s, the most advanced fighter in the US fleet, would be sent to the Al-Dhafra air base in the United Arab Emirates.
Territorial disputes between Iran and the United Arab Emirates over three islands in the Gulf have flared recently, with Washington voicing support for Abu Dhabi’s stance.
Iran has condemned US deployment of F- 22 in UAE.

Lyari Operation Failed in Karachi.پورے کراچی کی پولیس مل کر بھی 4 روز میں لیاری فتح کرنے میں ناکام ہوگئی



لیاری آپریشن میں آٹھ روز گزر جانے کے باوجود حکومت کو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے اور اس سلسلے میں گذشتہ روز تو واضح طور پر امن کمیٹی کے مسلح افراد کا پلڑا بھاری نظر آیا جبکہ پولیس اہلکار دفاعی پوزیشن پر نظر آئے، کئی روز کی شدید جنگ کے بعد اب پولیس ا ہلکار ہمت ہارتے نظر آرہے ہیں اور طاقت کے استعمال سے بھی نتائج نہیں مل سکے ہیں البتہ لیاری مکمل طور پر پیپلز پارٹی کا مخالف ہو چکا ہے۔ جبکہ اس سلسلے میں حکومت اور ملکی اداروں میں اختلافات کی خلیج بڑھتی جا رہی ہے تاہم ان اختلافات کی تصدیق یا تردید کرنے پر کوئی فریق تیار نہیں ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک برس کے دوران سندھ کے رخصت پر بھیجے گئے دوسرے وزیر داخلہ منظور وسان نے زبردستی کی رخصت پر روانگی سے قبل صحافیوں سے الوداعی ملاقات میں اس سوال کا جواب دینے سے گریزکیا کہ رینجرز لیاری آپریشن میں موثر کردار ادا کیوں نہیں کر رہی۔ انہوں نے کاندھے اچکا کر چڑچڑے انداز میں کہا کہ یہ سوال تو وزیراعلیٰ سے پوچھا جائے جن کے پاس اب وزارت داخلہ کا قلم دان ہے، (میں تو چھٹی پر ہوں) ان کی بے بسی قابل دید تھی۔ لیاری آپریشن پر اداروں کے تحفظات غیر جانبدار سیاسی قوتوں سے ملتے جلتے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ آپریشن کراچی کے مختلف علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا تخصیص ہونا چاہئے۔ لیاری کے آٹھ افراد اگر گرفتار بھی ہوگئے تو کیا کراچی میں امن قائم ہو جائے گا؟، ٹارگٹ کلنگ بند ہو جائے گی؟ اسٹریٹ کرائمز کے ستائے ہوئے شہری سکون کی زندگی گزار سکیں گے؟ ہر طرف امن اور چین ہوگا؟ اگر ان سب کی ضمانت ہے تو پھر کراچی کے لوگوں کو لیاری آپریشن پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا مگر انہیں معلوم ہے کہ کراچی میں لوگوں کی جانیں لینے والے کبھی مطمئن نہیں ہوتے اور یہ کراچی کے شہری برسوں سے دیکھ اور بھگت رہے ہیں۔
دو برس قبل سابقہ وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے جو صدر زرداری کے دست راست اور انتہائی قریبی رفیق تھے نے کراچی کے مسئلے کا نرالاحل دریافت کیا تھا جس کی تصدیق گزشتہ روز جیو کے پروگرام ”لیکن“ میں امن کمیٹی کے ظفر بلوچ نے کی کہ انہیں ہتھیار پیپلز پارٹی نے دیئے تھے اور اس لئے دیئے تھے کہ وہ ایم کیو ایم کے لوگوں کا مقابلہ کریں۔ یہی اسلحہ کے انبار اب قانون کے خلاف استعمال ہو رہے ۔پہلے سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی جبکہ تاجر اور عام شہری روزانہ کسی نہ کسی پلیٹ فارم پر احتجاج کرتے یا دہائی دیتے دیکھے جاسکتے تھے یہ سب کچھ اقتدار کی ناک کے نیچے ہوتا رہا مگر مر تو غریب رہے تھے اس لئے فکر کسی کو نہ تھی۔ اقتدار کی سنگھاسن ڈولنے لگی، انتخابات کے دن قریب آنے لگے اور ووٹ فیصلہ کن قوت بننے جا رہا تھا تو فیصلہ سازوں کو اپنی غلطیوں کا ایک بار پھر احساس ہوا اورانہوں نے پوری ریاستی مشینری آٹھ ملزموں کی گرفتاری کے لئے 15 لاکھ کی آبادی میں جھونک دی۔ وہ آٹھ ملزم بھی اپنے ہی تراشیدہ ہیں۔ لیاری 8 روز سے آگ اگل رہا ہے، چاروں طرف سے پولیس کے پندرہ ہزار سے زائد جوانوں نے اسے گھیر رکھا ہے، اب تک 30 سے زائد افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی اسپتالوں میں پڑے ہیں۔ ایک سینئر پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ لیاری میں آٹھ نہیں آٹھ ہزار جرائم پیشہ عناصر ایک دوسرے سے کمربستہ ہیں اور ان جرائم پیشہ عناصر کی گزشتہ چار سالوں کے دوران کی جانے والی سرکاری سرپرستی کی وجہ سے وہ اس قدر منہ زور ہوگئے ہیں کہ اب سرکار کی طاقت کو بھی للکارنے لگے ہیں۔ چوہدری اسلم جیسے پولیس افسر کو آئی جی سے بھی زیادہ اختیارات دے کر کراچی پولیس ان کی کمان میں دے دی گئی ہے شہر کے تمام تھانوں میں سناٹا ہے پولیس کوئی اور کام نہیں کر رہی اور تمام ایس ایچ او اور ان کی سپاہ چوہدری اسلم کو جواب دہ ہیں اور ان سے عہد لیا گیا ہے کہ وہ آٹھ روز میں نتائج دکھائیں گے۔ آٹھ روز گزر گئے، آٹھ مزید گزرنے کو ہیں مگر لیاری کو ابھی تک فتح نہیں کیا جا سکا ہے۔ بچے دودھ کو بلک رہے ہیں،بجلی بند، پانی بند، بازار بند، دوائیاں ناپید، خوراک غائب، خوف کا راج ہے۔کیا یہ پیپلز پارٹی سے وفاداری کی سزا مل رہی ہے، اس کا فیصلہ تو بالٓاخر لیاری کے عوام کو خود کرنا ہوگا۔ اب ایک بار پھر پولیس اور سرکار کی گاڑیوں میں ایک دوسرے جرائم پیشہ لالو پپو گروپ کو بٹھا کر لیاری پر ان کا قبضہ کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ یہاں پہلے سے موجود گروپ پی پی کا مخالف ہو گیا ہے لہذا نیا گروپ جو پی پی کا حامی ہے اب اسے قبضہ دلایا جا رہا ہے۔
کراچی سمیت ملک بھر کے لوگوں نے ایک ٹی وی چینل پر لائیو پروگرام میں یہ بھی دیکھا اور سنا کہ کل تک سرکار کی آنکھوں کا تارا سمجھا جانے والا رحمٰن ڈکیت کا گدی نشین عذیر بلوچ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا صدر زرداری پہلے ٹین پرسنٹ تھے اب 100 فیصد ہوگئے ہیں اور اس نے دعویٰ کیا کہ آج کے بعد لیاری سے پیپلز پارٹی کا نام و نشان ختم ہوگیا اور اب کوئی رکن اسمبلی پی پی کے ٹکٹ پر لیاری سے کامیاب نہیں ہوگا۔ گزرے آٹھ دنوں میں کراچی کے شہریوں نے مسلسل یہ مناظر بھی دیکھے کہ پیپلز پارٹی کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی، جھنڈے اور پوسٹر جلا دیئے گئے اور تصاویر پاؤں تلے روندی گئیں، یہ سب کچھ بھٹوز کے لیاری میں ہو رہا ہے اس طرح تاریخ کا دھارا نئی منزل کی تلاش میں بہہ رہا ہے ایک بار پھر نئے فیصلے لکھنے کی طرف گامزن ہے۔
دوسری جانب لیاری میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس آپریشن چوتھے روز نسبتاً سست نظر آیا مگر تخریب کاروں نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ پیر کو دہشتگردوں نے راکٹ ، دستی بم کے حملے کیے جبکہ تخریب کاروں نے لیاری سے نکل کر شیر شاہ پراچہ چوک کے بس اسٹاپ بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 7افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، تخریب کاروں نے شیر شاہ میں 2/ مسافر گاڑیوں کو بھی جلادیا جبکہ ایک کار ملیر کے علاقے میں جلائی گئی، لیاری کے مکینوں نے احتجاجی ریلی بھی نکالی۔ ادھر لیاری آپریشن کی قیادت کرنیوالے ایس ایس پی، سی آئی ڈی ایکسٹریم ازم سیل چوہدری محمد اسلم خان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ آئندہ 48/ گھنٹے میں آپریشن مکمل کرلینگے تاہم چار روز سے جاری آپریشن کے سبب پیر کو بھی لیاری میں بازار اور دکانیں مکمل طور پر بند رہیں، سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا اور پورے ٹاؤن میں خوف و دہشت کے سائے منڈلاتے رہے۔ لیاری میں آپریشن کے دوران مختلف مقامات پر پی ایم ٹی تباہ ہونے کے باعث بجلی نہیں جس کی وجہ سے لیاری کے مکینوں کو پانی بھی میسر نہیں آرہا اور شہریوں کو دقت کا سامنا ہے۔ پیر کو لیاری کے مکینوں نے ماڑی پور روڈ پر احتجاجی ریلی بھی نکالی مگر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کرکے ریلی کے شرکاء کو منتشر کردیا، لیاری میں آپریشن کیخلاف ملیر، ماڈل کالونی سے بھی ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کے شرکاء نے تھانہ سعود آباد کی حدود میں ملیر ہالٹ کے پاس ایک کار کو آگ لگادی۔ قبل ازیں دہشتگردوں نے لیاری میں جمعہ بلوچ روڈ پر ایک راکٹ فائرکیا گیا جس کے ٹکڑے لگنے سے ایک 60/ سالہ نامعلوم شخص ہلاک جبکہ 40/ سالہ جہانگیر، 55/ سالہ ہارون، 8/ سالہ انیس، 40/ سالہ سلیم، 32/ سالہ یوسف، 28/ سالہ ظفر، 21/ سالہ عائشہ، 20/ سالہ سہیل اور ایک 30/ سالہ نامعلوم شخص زخمی ہوگیا۔ نیا آباد میں فائرنگ سے 25/ سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا جس کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی۔تھانہ کلری کی حدود ہنگورہ آباد میں 23/ سالہ نامعلوم نوجوان کی ہاتھ پاؤں بندھی لاش ملی جسے تشدد کے بعد سر میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ لی مارکیٹ، بھیم پورہ، کمہار سنیما کے قریب مارے جانے والے راکٹ کے ٹکڑے لگنے سے 30/ سالہ ریاض، 40/ سالہ جمعہ، 25/ سالہ کشور اور 25/ سالہ شبیر زخمی ہوگیا جبکہ چیل چوک پر فائرنگ سے ہیڈ کانسٹیبل 30/ سالہ عباس ولد ساجد زخمی ہوگیا۔ دریں اثناء دہشت گردوں کے ایک گروپ نے موٹر سائیکلوں پرنکل کر شیرشاہ پراچہ چوک کے بس اسٹاپ پر کھڑے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 25/ سالہ رضوان ولد محمد ریاض، 28/ سالہ عبدالمجید اور جنید انصاری ہلاک جبکہ 45/ سالہ احمد اور 24/ سالہ عظیم ولد سراج زخمی ہوگئے۔ بعد ازاں تخریب کاروں نے 2/ منی بسوں نمبر PE-4233 اور PE-4076 کو بھی آگ لگادی۔ قبل ازیں ہلاک شدگان کی لاشیں اور زخمیوں کو چھیپا اور کے کے ایف ایمبولینسز کے ذریعے سول اسپتال پہنچایا گیا آخری اطلاعات آنے تک لیاری میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن جاری تھا۔رات گئے چیل چوک پر راکٹ حملے میں ایک سپاہی جاں بحق ہوگیا، جبکہ پولیس دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں نوالین، گل محمد لین اور سیفی لین میں داخل ہوگئی جس کے دوران سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جومسلسل جاری تھا، تخریب کاروں نے چیل چوک پر2راکٹ مارے جبکہ کلری تھانے کے قریب پولیس کی بکتر بند گاڑیوں پر 3 دستی بم پھینکے گئے چیل چوک پر راکٹ حملے میں ریپڈ رسپانس ایسٹ کا سپاہی شہباز جاں بحق ہوا، جس کی لاش سول اسپتال پہنچائی گئی ، نیز لیاری ایکسپریس وے پر تخریب کاروں نے 25سالہ پرویز ولد امام بخش کوہاتھ پاؤں باندھنے کے بعد گولیاں مارکر پھینک دیا، جسے شدید زخمی حالت میں سول اسپتال پہنچایا گیا۔

Monday, April 30, 2012

Qabar Se Ek Apeal

قبر سےایک اپیل 





قبر سےایک ایمیل 

میرے ایک واقف کار نے یہ واقعہ سنایا۔ کہتا ہے اُس کا ایک بہت اچھا دوست تھا جو پچھلے دنوں روڈ ایکسیڈنٹ میں مارا گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اُس پر اپنا رحم فرمائے اور اُس کی خطاوں کو معاف فرمائے۔ مرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ وہ مر گیا، سب نے مرنا ہے۔ لیکن اس کی موت سے کچھ قباحتیں اور مشکلات کھڑی ہوئی ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ مرنے والا انٹرنیٹ سے متعلقہ امور میں مہارت رکھنے والا شخص تھا۔ فحش مواد والی ویب سائٹس اُسکی کمزوریاں تھیں اور ننگی تصاویر جمع کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

حتیٰ کہ اُس نے اپنی ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی تھی جس پر ہر طرح کی فحش تصاویر کا ایک بہت بڑا مجموعہ لوگوں کی تفریح طبع کیلئے موجود تھا۔ ویب سائٹس کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ رجسٹرڈ ممبران کو نئی تصاویر یا ہر کچھ دنوں کے بعد چند تصاویر کا ایک مجموعہ خود بخود ہی ان کے ایمیل پر پوسٹ ہو جاتا تھا۔

اب میرے اس دوست کی ناگہانی موت نے ہمارے لیئے یہ مصیبت کھڑی کر دی ہے کہ ہمیں اس کی ویب سائٹ کا پاس ورڈ معلوم نہیں ہے تاکہ کم از کم اس ویب سائٹ کو بند کریں یا کوئی دوسرا حل نکالیں۔

کہتا ہے: جب میں مسجد میں بیٹھا اس کی نماز جنازہ کا انتظار رہا تھا تو یہی سوچ رہا تھا اور جب ہم سب اس کی لاش کو اُٹھا کر قبر کی طرف جا رہے تھے تو بھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ قبر میں جا کر کس چیز کا سامنا کرے گا؟ ننگی تصاویر کا؟ حسبنا اللہ و نعم الوکیل

قبرستان میں قبروں کی وحشت اور ویرانگی مگر جنازے کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں کے رش کے باوجود میرا دماغ بس یہی بات ہی سوچتا رہا۔ میں نے قبر کے اندر ایک نظر ڈالی اور افسوس کے ساتھ سوچا پتہ نہیں میرے دوست کا یہاں کیا حشر ہوگا؟

میرے دوست کے کچھ قریبی احباب تو رو بھی رہے تھے اور میں یہ سوچ رہا تھا کیا انکا رونا میرے دوست کے کسی کام آ سکے گا؟

ہم نے میت دفنائی اور واپس چل دیئے۔ جی ہاں اپنے دوست کو قبر میں اکیلا چھوڑ کر، اسکا سارا مال اور اس کے سارے اھل خانہ واپس، وہاں رہا تو اس کے اعمال تھے، اور کیا پتہ اس کے کیسے اعمال تھے؟

میرے دوست کی ماں اکثر خواب میں دیکھتی کہ لڑکے اس کے بیٹے کی قبر پر آتے ہیں اور پیشاب کر کے چلے جاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ مجھ سے پوچھتی کہ یہ کیسا خواب ہے اور اسکی کیا تعبیر ہوگی؟ اس بیچاری کو کیا پتہ کہ اس خواب کے پیچھے کیا راز تھے!

میں اپنے آپ کو کہتا کہ خواب کی تعبیر تو واضح ہے لڑکے وہ لوگ تھے جن کو میرا دوست ننگی تصاویر بھیجا کرتا تھا اور وہ لڑکے یہ تصاویر آگے سے آگے پہنچاتے تھے۔ اللہ اکبر، یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا تھا اور کس کس کے گناہ میرے دوست کو ڈس رہے ہونگے؟

میں نے اپنے دوست کی ویب سائٹ کی ہوسٹنگ کمپنی سے رابطہ کیا تاکہ وہ اس ویب سائٹ کو بند کردیں۔ مگر انہوں نے معذرت کر لی کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ میرے اصرار پر انہوں نے مجھے یہاں تک بھی کہا کہ وہ مجھ پر یقین نہیں کر سکتے کیونکہ جس نام اور جس پاس ورڈ سے یہ ویب سائٹ خریدی اور بنائی گئی تھی وہ معلومات میرے پاس نہیں تھیں۔ میں نے انہیں غصے میں بھی لکھا کہ لوگو، میرے دوست پر رحم کر دو، وہ بیچارہ مر گیا ہے مگر سب بے سود تھا۔

میں اکثر بیٹھ کر اپنے دوست کی حالت پر سوچتا جو کہ مجھے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کے مصداق نظر آتا جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں میں سے کچھ شر کے راستے کھولنے والے اور خیر کے بند کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور میں تڑپ کر رہ جاتا میرا دوست کس طرح لوگوں کے گناہ اُٹھائے گا جن کیلئے اس نے شر کے دروازے کھولے تھے۔ اور کس طرح قیامت کے دن ان سب گناہوں کو اپنے کندھے پر لاد کر محشر میں جائے گا؟

میں جانتا ہوں کہ میری ان باتوں کا کسی پر کچھ اثر نہیں ہونے لگا، کیونکہ نوجوان تو اس کو محض وقت گزاری جانتے ہیں، جب کہ اللہ کی پناہ؛ ان تصاویر کے نتائج کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لڑکوں نے ایسی تصاویر دیکھیں، اپنی خواہشات کے سامنے بے بس ہوئے اور گناہوں کے گڑھوں میں کرتے چلے گئے اور کتنی ہی معصوم بچیاں بربادیوں میں پھنستی چلی گئیں۔

میرا دوست تو مر گیا مگر میں جانتا ہوں کہ روز قیامت اس سے ضرور سوال کیا جائے گا کہ تو نے کتنی ایسی تصاویر ہر اپنی نظریں ڈالیں اور تیری دوسروں کو بھجی ہوئی تصویروں پر کس کس کی نظریں گئیں؟ تو نے کدھر کدھر یہ تصاویر پھیلائیں اور اور جن تک تیری بھیجی ہوئی تصاویر گئیں انہوں نے کس قدر آگے ان کو آگے پھیلایا؟

مجھے اب بالکل کچھ نہیں سوجھ رہا کہ اس سلسلے کو میں کس طرح روک دوں؟ اللہ میرے دوست پر رحم فرمادے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمار خاتمہ اچھا لکھ دے۔ اور اللہ کرے یہ قصہ عقل والوں کیلئے عبرت کا سامان ہو۔ آمین یارب

Story Of Lauren Booth a half-sister of Cherie Blair Who Accepted The Islam


سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر کی سالی لورین بوتھ کا قبولِ اسلام نیا نہیں مگر ان کی زندگی کی پوری کہانی ایک نئی بات ضرور ہے۔ انہوں نے پہلی بار اپنی زندگی کی کہانی کھل کر سنائی ہے جو کویت کے ماہنامہ المصباح نے شائع ہے اور ان کے شکریہ کےساتھ ہم آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔
-------------


”میں اسلام قبول کرنے کے لیے ہرگز سرگرم نہ تھی، نہ ہی میں اسلام کا مطالعہ کر رہی تھی، بات دراصل یہ ہے کہ جب آپ ایک مسلم معاشرے میں مسلمانوں کے درمیان رہ کرایک طویل عرصے سے کام کر رہے ہوں تو لامحالہ ان سے روزمرہ کی گفتگو کے دوران اُن کے دین اور قرآن کے متعلق کچھ نہ کچھ معلومات حاصل ہوتی ہی رہتی ہیں، میں یہ سمجھتی ہوں کہ میں نے اتفاقاً مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہوئے تھوڑا بہت قرآن کے بارے میں جانا، اس دوران یہ بھی اندازہ ہوا کہ اگر آپ نے اسلام میں دلچسپی لیتے ہوئے اسکے بارے میں جاننے کی خواہش ظاہرکی تو مسلم اُمہ کی تمام تر محبت،یگانگت اور خلوص کو آپ یقینا محسوس کئے بنا نہ رہ سکیں گے“۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے اسلام،مسلمانوں کی محبت اور دوستی میں قبول نہیں کیا بلکہ جن حالات میںمیں مسلمانوں کے درمیان رہ کر اک طویل مدت تک کام کرتی رہی ہوںاس دوران نہ جانے کس وقت میرا اللہ سے ربط قائم ہو گیا ، میں نے اللہ کو زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کی اور اب میں امیدکرتی ہوں کہ میںاپنی اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب ہوسکی ہوں۔
اسلام کی جانب یہ سفر میری زندگی کانہایت خوشگوار سفر ہے،مجھے نہیں معلوم کہ میں کب اس راہ کی مسافر بنی، حالات سازگار ہیں اور ساتھی مسافر گرمجوش، اس سفر میں میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہوں اور وقت کی گرم آندھی اور راہ کی تمام رکاوٹوں کے باوجود اسلام کے راستے پر میرا یہ سفر تیزی سے گامزن ہے۔
اگر مجھ سے یہ سوال پوچھا جائے کہ ایک انگریز صحافی، ایک تنہادو بچوں کی ماں نے مغربی میڈیا کے سب سے ناپسندیدہ مذہب کو کس طرح قبول کیاتو اس کے جواب میں میں اپنے اس انتہائی روحانی تجربے کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گی جو مجھے ایران کی ایک مسجد میں ہواجس نے میرے دل کی دنیا بدل دی ،مگر اسلام قبول کرنے کے حوالے سے اگر ماضی میں جھانکا جائے تو اسکی بنیاد غالباً اس وقت پڑ گئی تھی جب میں جنوری 2005ء میں اکیلی فلسطینی علاقے ویسٹ بنک (مغربی کنارہ) میں برطانوی جریدے ’دی میل‘کے لیے فلسطینی صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیے پہونچی تھی، یہاں میں یہ بات واضح کر دو ں کہ اپنے اس سفر سے پہلے مجھے کبھی بھی مسلمانوں یا عربوں کے ساتھ رہنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا
جب میں نے اپنا مشرقِ وسطی کا یہ سفر شروع کیا تھا تو میرا ذہن مغربی میڈیاکے اس پروپگنڈہ کی وجہ سے سخت مخدوش تھا جو اس نے دنیا کے اس حصے کے لوگوںکے بارے میں جو محمد صلى الله عليه وسلم کے ماننے والے تھے جاری رکھا ہوا تھا اور انہیں بنیاد پرست ، متعصب،مذہبی انتہاءپسند، خودکش حملہ آور، ا غوا کاراور جہادی قرار دیاجاتا تھا جبکہ میرا یہ تجربہ ان تمام تصورات کے بالکل برعکس ثابت ہوا۔
میں فلسطینی مغربی کنارے کے علاقے میں اس حال میں داخل ہوئی تھی کہ میرے جسم پر میرا کوٹ بھی نہیں تھا کیونکہ تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی حکام نے میرا سوٹ کیس اپنے قبضے میںلے لیا تھا، اور میں ’رام اللہ‘ کے مرکزی علاقے میں شدید سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی چلی جا رہی تھی کہ یکایک ایک بوڑھی فلسیطینی خاتون نے میرا ہاتھ تھام لیا، تیزی سے عربی زبان میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے وہ مجھے ملحقہ گلی میں واقع ایک گھر میں لے گئی، سب سے پہلے میرے ذہن میں جس خدشے نے جنم لیا وہ یہ تھا کہ کیا میں ایک بوڑھی عورت کے ہاتھوں اغواءہوگئی ہوں،کئی منٹ تک میں خاموشی سے اسے اپنی بیٹی کے کمرے میں موجود کپڑوں کی الماری سے کچھ ڈھونڈتے ہوئے دیکھتی رہی ، بالآخراس نے الماری سے ایک کوٹ،ایک حجاب اور ایک ٹوپی نکالی اور مجھے دیکر دوبارہ اسی گلی میں چھوڑ دیا جہاں سے وہ مجھے اپنے گھر لے گئی تھی۔میرے سر پر گرمجوشی سے بوسہ دیا،اور اپنی راہ ہولی، حیرت کی بات یہ ہے اس سارے عمل کے دوران ہمارے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہ ہوا۔
یہ سخاوت اور فیاضی کی ایک زندہ مثال تھی جسے میں کبھی نہ بھول پاؤں گی اور جس کا مجھے اس کے بعد وہاں رہتے ہو ئے کئی موقعوں پر بارہا تجربہ ہوا۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری عملی زندگی میں روحانی گرمجوشی کا ایسا مظاہرہ شاذ ونادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
اس سفر کے بعد آنے والے تین برسوں میں میرا مقبوضہ علاقوں میں متعدد بار جانے کا اتفاق ہوا۔ ابتداً میرا وہاں اپنے صحافتی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں جانا ہوتا رہا مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا میرے وہاں کے سفر کی نوعیت میں تبدیلی آتی گئی اور پھر میں نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے اور انکے لیے امدادی کام کرنے والے گروپوں کےساتھ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آنا جانا شروع کردیا۔
اس دوران میں نے وہاں ہر مذہب اور عقیدے کے حامل فلسطینیوں کی بدحالی اور تکالیف کو کھلی آنکھوں سے دیکھا اوردل سے محسوس کیا۔یہاں میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی عقیدے کے لوگ بھی جو تقریباً دو ہزار برس سے ارضِ مقدس پر رہ رہے ہیں وہ بھی مسلمانوں کی طرح اسرائیلی جارحیت کا شکار ہیں۔
وہاں آتے جاتے اور فلسطینی مسلمانوں کے درمیان رہتے ہوئے ان شاءاللہ، ماشاءاللہ اور الحمد للہ جیسے کلمات میری زبان کا حصہ بنتے رہے جو فلسطینی مسلمان اپنے روزمرہ کی گفتگو میں شکر ، تعریف اور امید کے اظہار کے طور پر استعمال کرتے تھے۔اس سرزمین کے لوگوں کے حوالے سے مغربی میڈیا نے جوخوفناک تاثر مغرب کے لوگوں کے اذہان میں پیدا کردیا ہے اور جسکا دہشتناک تصور لے کر میں پہلی بار اس خطے میں آئی تھی اب اتنا عرصہ ان لوگوں میں رہنے کے بعد وہ تاثر یکسر غائب ہوگیا تھا ۔ اب میں بغیرکسی خوف و تردد کے مختلف مسلم گروپوں سے ملنے لگی تھی ا ور اس طرح اس سرزمین کے ذہین،عقلمند اور سب سے بڑھ کر مہربان اور فیاض لوگوں کے درمیان مجھے رہنے اور انہیں سمجھنے کا موقع ملا۔
فلسطین کی مسلمان خواتین‘ اسلام سے میری خصوصی لگن اور پسندیدگی کا سبب بنیں، آپ اندازہ کریں کہ سر سے پیر تک برقع میں ملفوف خواتین کو ایک انگریز عورت نے کس نظر سے دیکھا ہوگا۔ اسکے برعکس یورپ میںپیشہ ور خواتین اپنی خوبصورتی اور ظاہری وضع قطع کی زیادہ سے زیادہ نمائش میں خوشی محسوس کرتی ہیں اور وہاں ایسا کرنا روزمرہ کے معمولات میں شامل ہے ،بالکلمعیوب نہیں سمجھا جاتا۔
جب کبھی مجھے کسی پروگرام کو نشر کرنے کے لیے ٹیلیویژن سٹیشن پر مدعو کیاجاتاتھا تو میں یہ دیکھ کر حیران ہو جاتی تھی کہ خواتین میزبان پندرہ منٹ کے دورانیہ کے سنجیدہ نوعیت کے پروگرام پیش کرنے سے پہلے گھنٹہ بھر تک بالوں کی تزئین وآرائش اور میک اپ پر صرف کیا کرتی تھیں۔کیا اسی کا نام آ ز ادی ہے؟ میں سوچتی ہوں کہ اس آزاد مغربی معاشرے میں لڑکیوں اور خواتین کو کتنا حقیقی احترام دیا جاتا ہے۔
2007 ءمیں مجھے لبنان جانے کا اتفاق ہوا، میں نے وہاں چار دن یونیورسٹی کی طالبات کے ساتھ گزارے جو سب کی سب حجاب پہنی ہوئی تھیں اور جن کے سر کے بال تک نظر نہیں آتے تھے۔ وہ خوبصورت، خودمختار اور صاف گوتھیں۔ا ور قطعاً ایسی ڈرپوک اور بزدل نہیں لگ رہیں تھیں کہ کوئی زبردستی انکی مرضی کے برخلاف انہیں پکڑ کر انکی شادی کر دیتا جیسا کہ میرے ذہن میں تصور تھاجو میں نے مغرب کے اخباروں میں پڑھ کر قائم کیا تھا۔
جتنا زیادہ وقت میں مشرقِ وسطیٰ میں گزار رہی تھی اتنی ہی زیادہ تبدیلی میں اپنے اندر محسوس کر رہی تھی،میں انہیں خود کومسجد میں لے جانے کے لیے کہتی ، اپنے آپ کو میں یہ کہہ کر مطمئن کرلیتی کہ میں سیاحت کررہی ہوں مگر درحقیقت مساجد مجھے بے حد دلکش لگتی تھیں، مجسموں سے پاک اور خوبصورت غالیچوں سے آراستہ۔
لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے اب تک کتنا قرآن پڑھا ہے اور میں یہ کہتی ہوں کہ میں نے اب تک صرف سو صفحات کاباترجمہ مطالعہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کہ میری اس بات کو کوئی طنزیہ نظروں سے دیکھے میں صرف یہ گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ اس عظیم کتاب کی ایک وقت میں دس لائنیں پڑھنا چاہیے، مکمل تدبرکے ساتھ۔ اسطرح کہ جو کچھ آپ پڑھ رہے ہوں اس کو اچھی طرح سمجھ بھی رہے ہوں اور اگر ممکن ہو تو ان دس لائنوں کو زبانی یاد بھی کرلینا چاہیے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس قرآن کو اللہ کی نازل کی ہوئی کتابِ ہدایت سمجھ کر پڑھنا چاہیے نہ کہ کوئی رسالہ سمجھ کر۔میں ان شاءاللہ عربی زبان بھی سیکھنے کی کوشش کروںگی مگر اس میں خاصہ وقت لگے گا۔
اسلام کی تعلیمات سے واقف ہونے کے لیے بہت زیادہ مطالعے کی ضرورت پڑتی ہے، شمالی لندن کی چند مساجد سے میرا رابطہ ہے اور پُرامید ہوں کہ میں کم از کم ہفتہ میں ایک بار وہاں جایا کروں۔
اعتدال پسند انہ لباس کا انتخاب اتنا مشکل معاملہ نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے۔ حجاب پہننے کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ باہر پہلے سے بھی زیادہ کم وقت میں جاسکتے ہیں کیونکہ حجا ب کی وجہ سے آپ کو بہت سارا وقت بالوں کی آرائش میں ضائع نہیں کرنا پرے گا۔ چند ہفتے قبل جب میں نے پہلی بار اپنے سر پرحجاب باندھا تو مجھے بہت شرم سی محسوس ہوئی تھی۔ چونکہ ان دنوں سردی کا موسم تھا تو میراحجاب پہننا کسی نے محسوس نہ کیا البتہ گرمی کے موسم میں حجاب پہن کر نکلناایک چیلنج ہے،مگر بریطانیہ ایک روادار ملک ہے اور ابتک مجھے کسی نے حقارت کی نظروں سے نہیں دیکھا،حجاب کے ساتھ نقا ب میں اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتی مگر برقع مجھے زیادہ موزوں محسوس ہوتاہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد میڈیا میں ردّعمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ظاہر ہے میرے اس عمل سے انہیںموقع ہاتھ آگیا اور بہتان اور دشنام طرازی کا سلسلہ شرو ع ہوگیا مگر حقیقتاً ان کا ہدف میری ذات نہیں تھی بلکہ اسلام کا غلط تصور جو انہوں نے اپنے ذہنوں میں قائم کر لیا ہے دراصل وہی سوچ اس سارے قصے کے پیچھے کارفرما تھی،مگر میں نے زیادہ تر منفی تبصرے نظرانداز کردئے کیونکہ کچھ لوگ روحانیت کے معنوں سے ناآشنا ہوتے ہیں اور اس موضوع پر انکے ساتھ کسی قسم کا بحث ومباحثہ انہیں مزیدخوفزدہ کردیتا ہے۔
میرے اسلام قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایک مشورہ مجھے اچھا لگا اور میں نے اس پر عمل بھی کیاکہ میں ایسے مواد کامطالعہ نہ کروں جو ناگوار خاطر گزریں،نہ ہی بلاگس (Blogs)میں موجود منفی تبصروں پر کان دھروں ۔ اسطرح میں نے بہت سی تصوراتی اور ناخوشگوار باتوں کی طرف مطلق دھیان نہ دیابلکہ اپنی تمام تر توجہ اس بات پر مبذول کر لی ہے کہ مسلم امہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پیار اور تعلق کو مضبوط ومربوط کیا جائے۔
اپنے پیشے کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے انکا سوال یہ تھاکہ کیا حجاب پہن کر وہ اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکےں گیمجھے علم ہے کہ بہت ساری مسلم خواتین نے ٹیلیویژن اور صحافت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیںاور مستقل مزاجی کے ساتھ شائستہ مغربی لباس پہنتی ہیں،میں ابھی اسلام میں نئی نئی داخل ہوئی ہوں اور اسلام کے بنیادی اصولوں سے واقفیت حاصل کر رہی ہوں، اسلام سے میرے تعلقات کی نوعیت الگ قسم کی ہے۔ میرا قطعاًیہ نظریہ نہیں ہے کہ اسلام کے بعض اصول تو میں اپنا لوں اور بعض کو نظر انداز کردوںبلکہ میں اسلام کو مکمل طور پر اپنے اندر سمو لینا چاہتی ہوں۔مستقبل کے حوالے سے بھی غیر یقینی حالات کا شکار ہوں، میں روزانہ ہی کچھ نہ کچھ اپنے اندر تبدیلی اور ایک نیاپن محسوس کرتی ہوںاور سوچتی ہوں کہ یہ سلسلہ کہاں جاکر رکے گا ۔
اپنے معاشرتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انکا کہنا ہے کہ میں اس حوالے سے اپنے آپ کو نہایت خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میرا اسلام قبول کرنا میرے اہم ترین رشتوں پر کسی طور بھی اثر انداز نہیں ہوا ہے۔ میرے اس فیصلے سے میرے غیر مسلم دوستوں کا ردّعمل تجسسانہ تھا نہ کہ مخالفانہ اور معاندانہ۔وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم بدل جاؤگی؟ کیا ہماری دوستی برقرار رہ سکے گی اور کیا ہم اب بھی شراب نوشی کے لیے جاسکیں گے؟ انکے پہلے دو سوالوں کا جواب تو میرے پاس اثبات میں ہے مگر تیسرے سوال کا جواب قطعا انکار میں۔جہاں تک میری والدہ کا تعلق ہے تو وہ میری خوشی میں خوش ہیں۔ میرے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ میں کسی مرد سے تعلقات کے بارے میں سوچوں،میری ازدواجی زندگی انحطاط کا شکار ہے اور یہ طلاق پر منتج ہونے جارہی ہے ، کسی مناسب وقت پر اگر میں نے دوبارہ شادی کے بارے میں سوچا تو وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگی اور میرا ہونے والا شوہر یقینا ایک مسلمان ہوگا۔


یہ تھی برطانیہ کی اس خاتون کے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے بات چیت۔


آئیے ہم سب ملکر اللہ کے حضور دعا کریں کہ وہ اس نومسلم بہن کواسلام پر ثابت قدم رکھے اور حالات کی سختیاں اور بادسموم کے مخالف جھونکے ان کے پایہ استقلال میں جنبش پیدا نہ کرسکیں بلکہ انکے عزم اورحوصلے روز افزوں جواں اور ہمت بلند سے بلند ہوتی جائے اور یہ دین کی داعی اوزبردست مجاہدہ بنے اور خصوصاً بریطانیا میں اسلام اور مسلمانوں کو ان کی وجہ سے تقویت ملے ۔ آمین ثم آمین۔

Sunday, April 29, 2012

SHO, 10 others killed in Lyari gun battles

Karachi: The narrow lanes of Lyari remained a battlefield for the second consecutive day as fierce battles raged between gangsters and the police on Saturday, claiming nine more lives. The dead included the SHO of the Civil Lines police station. The pitched battles between heavily armed men and personnel of the Anti-Extremism Cell (AEC) have so far claimed 23 lives in two days.
During the day, miscreants lobbed hand grenades and rockets at the police in which which two Armoured Personnel Carriers (APCs) were damaged.
The terrified residents of Lyari claimed that due to the operation, they had been confined to their homes and in the exchange of fire between the police and gangsters, bullets had entered their homes, forcing them to take shelter, and even sleep, on the floors of their houses.
The residents attempted to launch a protest against the violence, and also hired a bus for the purpose, but when they reached Safi Lane in Baghdadi armed men opened fire and told them to move back to their homes. The people resisted, upon which the gunmen torched a mini-bus of route U-1 and also opened random fire, forcing residents to go back to their homes.
SSP Mohammed Aslam Khan of the AEC, talking to The News, said that the police had already stationed their pickets in Lyari on Friday night but were forced to halt the operation because of the darkness. Early on Saturday morning, Aslam and his men once again entered Lyari focusing on Cheel Chowk in Kalakot, the stronghold of the gangsters.
On seeing the police approaching, the gang war elements opened random fire and also fired rockets and lobbed hand grenades at them. A gunbattle ensued during which the police managed to apprehend Luqman and Sohail (brothers of well-known gangster Mulla Nawaz) in an injured state who later succumbed to their injuries. The police also recovered arms and grenades from their possession.
SSP Khan said that those killed were wanted by the Lyari and Saddar Town police in cases related to murder, extortion, kidnapping for ransom among others. The police then moved further inside Lyari and another battle occurred in Sirya Gali, Chakiwara, where Wahid Baloch, belonging to the Baba Ladla group and wanted by the police, was also killed.
According to the police, the gangsters had lobbed shells at them and also fired rockets on their APCs. Gunmen opened fire on the police from rooftops but the law enforcers were able to move forward and enter Afshani Gali, where they apprehended wanted gangster Shakeel 35 in an injured condition. Shakeel later died. He was wanted for numerous heinous crimes in Lyari, according to the police, and was the right hand man of Baba Ladla.
Later, the gang war elements started targeting people in other parts of Lyari and injured several people in Agra Taj Colony and Niazi Chowk, including a woman, Naheed Bibi, 25, who was moved to Civil Hospital where she succumbed to her injuries.
The miscreants had also injured people near Miraan Naka Pull, who were taken to CHK where one Mohammed Azam, a resident of Baghdadi, succumbed to his injuries.
SSP Khan, confirming the attacks, said during the battle the gangsters had fired rockets and also lobbed hand grenades at Kalakot Police Lines due which five people were injured while some parts of Chakiwara police station were damaged.
He added that to counter the miscreants, the police had called in reinforcements from District South, which included a police party of Civil Lines, including their SHO Fawad Khan. When Khan reached near Cheel Chowk in a police vehicle, armed gangsters fired a rocket which directly struck the front of the police van and hit the SHO who was killed on the spot. PC Malik Tasawar and Amir Hussain were injured in the attack.
The martyred SHO was a resident of Gulshan-i-Iqbal. The funeral prayers of the deceased were held at the Garden Police Headquarters on Saturday night and was attended by the Inspector General of Police (IGP) Sindh Mushtaq Shah who commended the efforts of SHO Fawad Khan and expressed sympathy with his family.
Later, the gangsters started targeting nearby localities to divert the police and fired several rockets in Hingorabad, Gul Mohammed Bhoja Street, Nullah Stop and other areas in which six to seven people were injured. According to the police, some five to six rockets were also fired by the armed men.
When asked why the Rangers were not brought in, SSP Khan said that he had not called for Rangers support as it is the right of the local police to call them in as a back-up if needed. He added that until now, the police has managed to clear the area of Cheel Chowk and Afshani Gali from gangsters.
Meanwhile, parts of Lyari continue to remain volatile. The exchange of heavy fire continues till late at night and RPGs were deployed against the police. SSP Aslam Khan claimed that that police have managed to control 65 percent of the area area, while the remaining 35 percent will be cleared within the next day or two.
Meanwhile, late on Saturday night, four armed men riding on two motorcycles came to Abal Chowk of neighbouring Kharadar and opened indiscriminate fire on people. Seven persons, identified as Akram, Shahzad, Raja Ameen, Mohammed Imran, Mushtaq, Yousuf and one unknown, were shifted to the CHK where an unidentified man succumbed to his injuries.
In another late night development, police also found two tortured and bullet-riddled bodies while conducting a search operation in Cheel Chowk. The bodies were later moved to CHK. However, their identity could not be ascertained.
Earlier, police had also found the bullet-riddled body of a woman near Gabol Park. Police said that the deceased was identified as Rukhsana a resident of the Miraan Naka area, and it seems that she became the victim of the crossfire between the police and miscreants. Till the time of going to press, Lyari continued to remain tense.

Information Technology Site selected in Lahore.


LAHORE

Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif said on Saturday that suitable site had been selected on Lahore Ring Road to set up the most modern Information Technology University of Pakistan.

The university, he said, was being established with the collaboration of Turkey’s Middle East Technical University. The first campus of this university will be set up in Arfa Software Technology Park for the facilitation of students. Thy university would set new educational standards in Pakistan with regard to providing education of international level in computer and other science subjects, he hoped.

The chief minister was addressing the inaugural ceremony of the website of a computer company CAR4U regarding traffic management.

The Punjab Information Technology Board chairman Dr. Umar Saif and a large number of girl and boy students were also present.

The chief minister said that Punjab government was setting up Daanish Technical University for providing international standard computer education to Pakistani youth. The Punjab cabinet had already given approval in principle to the establishment of the university while the formal approval would be sought in the next cabinet meeting, he added. Lauding the website designed by Sakib Berjess Tahir for providing guidance in traffic management, the CM said that Pakistani youth was talented and would put the country on the road to progress and prosperity by ridding it of problems. He directed Sakib Berjess Tahir to plan such safety projects in consultation with education, transport and other concerned departments which would help educate the people regarding safe driving and saving the human lives in accidents on the roads.

Sakib Berjess Tahir, while speaking on the occasion, said that lives and properties were lost in accidents every year in Pakistan which could be avoided by adopting safety measures. He said that information had been provided in the website prepared by CAR4U Company regarding averting traffic accidents, getting driving license, road safety and other matters.

Meanwhile, different Memorandums of Understanding (MoUs) were signed between the Punjab government and the world renowned IT companies for enhancing mutual cooperation in information technology sector.

A function in this regard was held at Arfa Software Technology Park which was attended by Punjab Chief Minister Muhammad Shahbaz Sharif, the Planning & Development chairman, the provincial secretaries, the Punjab Information Technology Board (PITB) chairman, representatives of IT companies and computer experts. Under the MoUs, American company, Microsoft, will train students in internet-based self-employment methods, Cisco will set up Cisco Network Academy while through Hawaway Company, besides infrastructure development of information and communication technology, various training facilities will also be provided in the province.