Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !

Follow by Email

Tuesday, July 3, 2012

قبول اسلامEnterance in Islam

================================
امریکی ماڈل گرل سارہ بوکر کی کہانی - اسکی اپنی زبانی
================================
میں امریکہ کے قلب نیویارک میں پیدا ہوئی۔ اس کی ابتدائی جوانی ایک امریکی لڑکی ہی کی طرح گزری۔ اس کاایک ہی شوق تھا کہ امریکا کے عظیم شہر کی تفریح بھری زندگی کی جاذبیت اور دلکشی کی دوڑ میں حصہ لے اورسب سے آگے نکل جائے۔ لیکن اسے لگتا تھا کہ اس کی کوشش جس قدر بڑھتی اور وہ جتنا بظاہر کامیابیوں کی منزلیں طے کرتی جاتی، اس کی بے اعتمادی میں اسی قدر اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ وہ اپنے باطن میں ایک انجانا سا خلا…ایک عجیب سی کمی محسوس کر رہی تھی۔ اس کا معیار زندگی بظاہر جتنا اونچا ہو رہا تھا، اس کا اندر کا اعتماد اتنا ہی ٹوٹتا جا رہا تھا۔ وہ اس کاحل چاہتی تھی، مگراسے کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا تھا۔


آخر وہ اس زندگی سے تنگ سی آگئی۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اس نے خود کو نشے کے حوالے کردیا، مگر اندر کی بے کلی تھی کہ بجائے کم ہونے کے بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ کسی نے اسے مشورہ دیاکہ خود کو مصروف رکھ کر وہ ان سوچوں سے جان چھڑا سکتی ہے، چنانچہ وہ حقوق نسواں کی ترجمان سماجی کارکن کے طور پر فلاحی اور رفاہ عامہ کے کام کرنے لگی، اس نے بہت کم عرصے میں اس میدان میں بھی فتح کے جھنڈے گاڑ دیے، اوراس کے نام کا ہر طرف ڈنکا بجنے لگا، مگر …مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی … جس رفتار سے اس کی ترقی میں اضافہ اور اس کے کیریئر میں نکھار آرہا تھا، اسی سرعت سے اس کے اندر کی خود اعتمادی کا بت ریزہ ریزہ ہوتا جارہا تھا۔ آخر وہ کیا چیز ہے جس کے حصول کا اس کے ضمیر کی طرف سے مطالبہ ہے، وہ بہت سوچنے کے باوجود سمجھنے میں ناکام تھی، یکسر ناکام۔


اچانک اس کی زندگی میں نائن زیرو آگیا…ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون کی تباہی کے بعد اس نے دیکھا کہ ہر طرف سے اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔ہندو، یہودی اور عیسائی دنیا اگر اپنی توانائیاں کسی چیز کے خلاف صرف کررہی ہے تو وہ اسلام اور اسلامی اقدار ہیں۔ اسلام سے اسے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی، نہ مثبت نہ منفی، وہ اسلام کو ماضی کا ایک افسانہ، ایک بھولی بسری کہانی اور''پتھروں کے دور''کی ایک یادگار سمجھتی تھی۔ جب اس کے کانوں میں ہرطرف سے یہ آوازیں گونجنے لگیں کہ اسلام عورتوں کا استحصال کرتا اور اسے گھر کی نوکرانی اور شوہر کے پاؤں کی جوتی سے زیادہ کوئی مقام نہیں دیتا، تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اپنی آواز بھی اس اسلام مخالف ''شوروغوغا''میں شامل کر لے، بلکہ اسے اس کی شہرت اور معاشرے میں ایک اسٹیٹس کا حامل ہونے کی وجہ سے اس بات کی باقاعدہ پیشکشیں ہونے لگیں۔ اس نے پہلے تو سوچا کہ وہ بھی اس رو میں بہہ جائے ،کیوں کہ وہ عورتوں کی آزادی کی علمبردار ہے اور بزعم خویش اسلام حقوق نسواں کی راہ کی سب سے بڑی دیوار ہے۔

پھر جانے کیوں …اس نے فیصلہ کیا کہ پہلے تحقیق کرلینی چاہیے۔ اسے یقین تھا کہ اس کی تحقیق اس کی اسلام مخالفت میں مزید شدت کاباعث بنے گی، اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس تحقیق سے اس کی اپنی رائے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں یکسر بدل جائے گی، ورنہ شاید وہ ''یہ کڑواگھونٹ ''پینے کی شاید زحمت بھی گوارا نہ کرتی۔

تحقیق کی ابتدا اس نے ایک ایسے سینئر سماجی کارکن سے ملاقات کے ذریعے کی،جو بلا تفریق ملک و مذہب سارے انسانوں کے لیے انصاف اور فلاح و بہبود کا داعی تھا۔اس ملاقات کے بعد اسے احساس ہوا کہ انصاف،آزادی اوراحترام انسانیت آفاقی اقدار ہیں،جن کی دوسرے مذاہب سے بڑھ کر اسلام دعوت وترغیب دیتا ہے۔ یہ اس کے لیے ایک بڑا انکشاف تھا، جسے وہ آسانی سے قبول نہیں کرسکتی تھی۔

اس نے ایک اسلامک ریسرچ سینٹر سے رابطہ کر کے قرآن مجید کا ترجمہ حاصل کیا اور اس کا مطالعہ کرنے لگی۔ پہلے تو قرآن کے اسلوب و انداز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا، پھر اس کتاب میں کا ئنات، انسان اور زندگی کے بارے میں بیان کردہ ناقابل تردید حقائق نیز عبد و معبود کے رشتے پر جو روشنی ڈالی گئی ہے،ایسی جامع تفصیل اسے اس سے قبل کسی کتاب،کسی فلسفے اور کسی مفکر و مصنف کی تھیوری میں نظر نہیں آئی تھی۔وہ بے اختیار یہ سوچنے لگی کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا…اس انقلابی کتاب ہدایت نے اس کے اندر گویا ایک بھونچال سا برپا کردیا۔اس نے دیکھا کہ قرآن نے اپنی تعلیمات کا مخاطب براہ راست انسان اور اس کی روح کو بنایا ہے۔

اس نے قرآن میں بیان کردہ عورت کے حقوق کا مقابلہ دوسرے ادیان و مذاہب سے کیا،تو اس میں بھی اسلام کو سب سے بڑھ کر پایا، پھر اس نے حضوراکرم ۖ کے فرامین ،آپ ۖ کے صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں کو دیکھا تو قرآنی ہدایات کا کامل و مکمل نمونہ اور عکس جمیل نظر آیا،جب کہ دوسرے ادیان و مذاہب کے ''بڑے''اسے صرف ''گفتارکے غازی''نظر آئے… اور آخرکار وہ لمحہ آگیا جب اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ جس سکون کیلئے بیتاب ہے، وہ صرف اسلام قبول کرکے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔اس کی داخلی بے تابیوں اور اضطراب کا علاج صرف ایمان سے ہوسکتا ہے اور اس کے مسائل کا حل مہم جوئی میں نہیں عملی مسلمان بننے میں ہے۔

وہ اب اسلامی زندگی سے زیادہ دیر دور بھی نہیں رہ سکتی تھی،اس نے اسلام قبول کرکے ایک مسلمان مردسے نکاح کرلیا۔ اس نے ایک برقعہ اور سر اور گردن کو ڈھکنے والا اسکارف خرید لیا ،جو ایک مسلم عورت کا شرعی لباس ہے۔سب کچھ ویسا ہی تھابس ایک چیز بدلی ہوئی تھی یعنی اس کا اندرونی اطمینان وسکون اورخود اعتمادی اور تحفظ کا احساس…گویا وہ حقیقی آزادی کی منزل سے اب ہمکنار ہوئی ہو۔ وہ اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کرتی ہے:

''میں بڑی خوش تھی کہ ان آنکھوں میں اب تعجب اور دوری کے آثار تھے ،جو پہلے مجھ کو ایسے دیکھتے تھے جیسے شکاری اپنے شکار کو اور باز ننھی چڑیا کو۔ حجاب نے میرے کندھوں کے ایک بڑے بوجھ کو ہلکا کردیا اور مجھے ایک خاص طرح کی غلامی اور ذلت سے نکال دیاتھا۔اب دوسروں کے دلوں کو لبھانے کیلئے میں گھنٹوں میک اپ نہیں کرتی تھی۔ اب میں اس غلامی سے آزاد تھی۔ابھی تک میرا پردہ یہ تھا کہ صرف ہاتھ اور چہرے کو چھوڑ کر میرا پورا جسم ڈھکا ہوتا، میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں چہرہ بھی ڈھکنا چاہتی ہوں ، اس لیے کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے رب کو زیادہ راضی کرنے والا عمل ہوگا، انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی، وہ مجھے ایک دکان پر لے گئے جہاں میں نے ایک عربی برقعہ خریدا اور مکمل شرعی پردہ کرنے لگی۔آج مجھے اپنے فحش لباس کو اتار کر اورمغرب کی دلربا طرز زندگی کو چھوڑ کر اپنے خالق کی معرفت و بندگی والی ایک باوقار زندگی کو اختیار کرنے سے جو مسرت و اطمینان کااحساس ہوا ہے میں اس کی کوئی مثال نہیں دے سکتی …

میری وہ سہیلیاں جو میرے ساتھ حقوق نسواں کے محاظ پر مصروف کار تھیں،مجھے ڈراتی تھیں کہ اسلام قبول کرکے تم ایک عضو معطل بن کر رہ جاؤ گی، مگر یہ ان کی کم فہمی یا اسلام کے بارے میں غلط سوچ تھی، الحمدللہ!اب میں بھی عورتوں کے حقوق کی حامی و داعی ہوں، جو مسلم عورتوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی ایمانی ذمہ داریوں کو ادا کریں، اپنے شوہروں کی ایک اچھا مسلمان بننے میں مدد کریں، اپنے بچوں کو اس طرح تربیت دیں کہ وہ استقامت کے ساتھ دین پر جم کر اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کیلئے مینارہ نور بن جائیں''۔

0 comments:

Post a Comment