This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !
Showing posts with label Blalck Water American Agencies Private agencies. Show all posts
Showing posts with label Blalck Water American Agencies Private agencies. Show all posts

Friday, May 4, 2012

14 amazing abstract wallpapers in 3D

If you’re a fan of the abstract wallpapers, you’re going to like this post. Abstract 3D objects is something that we are seeing more and more in graphic design today, so I collected 14 amazing abstract wallpapers in 3D. Abstract art relies on the emotions of the artist and the building blocks of design rather than the true representation. This broad definition let an artist to create nearly limitless freedom of expression. Some abstract artists make masterpieces that have no guide or pattern. Other abstract artists work from various subjects and then interpret them in a nonrepresentational way.If you want more awesome abstract wallpapers, why not view one of my previous post titled; 28 Awe-Inspiring Abstract Wallpapers
The_Dopeshow_by_NKeo-abstract-wallpaper-3d
Source
Winter_process_by_iuneWind-3d-wallpaper-abstract
Source
Abstract Trip wallpaper-3d
Source
summer_cocktail_ 3d wallpaper abstract
Source
Segundo_fondo_by_SpaceLince 3d abstract wallpaper
Source
3D_abstract Art_picture
Source
colorpicker-a_abstract wallpaper in 3d
Source
walkin_metallic_dragon_1600_by_iuneWind abstract wallpaperwww.newsvelley.blogspot.com

Tangy_by_tonare-3d-abstract-wallpaper
Source
nextgenplant_1600x1200 3d abstract wallpaper
Source
abstract-3d-wallpaper-airlock
Source
Sunset_by_Futurisk-abstract-wallpaper-3d
Source
leto2_780 abstract 3d wallpaper
Source
760DEGREES_by_videa-abstract-wallpaper-3d
Source
summer_cocktail2_abstract wallpaper 3d
Source
3d-abstract-200k_wallpaper_1600x1200_by_PAULW
Source
summer_cocktail3_780 3d abstract wallpaper
Source

elewacja_B_by_polaus-3d-abstract


industrialofkids_3d abstract wallpaper





3d-abstract-desktop-wallpaper


fallcocktail_3d abstract wallpaper




june_second780 3d abstract wallpaper

leto_780 3d abstract wallpaper




Mecko_by_Ton_K300 3d abstract wallpaper

Thursday, May 3, 2012

Interview of Syed Zaid Hamid on Iran Tv Channel True Pakistani

Interview of Syed Zaid Hamid Pakistani on Iranian Channel just Watch

Monday, April 30, 2012

Cheapest Energy light project

alt

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک ایسے نظام کی تیاری کے لیے ابتدائی فنڈنگ فراہم کر دی ہے جس میں سیٹیلائٹ خلاء میں شمسی توانائی کے ذریعے تیار کردہ   انتہائی سستی بجلی زمین پر بھیجے گا۔ اس منصوبے کو انتہائی قابل عمل قرار دیا جا رہا ہے۔منصوبے کو ایس پی ایس الفا  کا نام دیا جا رہا ہے، جو سولر پاور سیٹلائٹ کا مخفف ہے۔ اس نظام کے تحت خلاء میں موجود ایک سیٹیلائٹ پر نصب فوٹو وولٹیک سیلز کے ذریعے شمسی توانائی کو بجلی میں تبدیل کیا جائے گا، جس کے بعد اس بجلی کو زمین پر لگے اسٹیشنز پر منتقل کر دیا جائے گا۔گو کہ یہ تصور نیا نہیں ہے کہ خلاء میں بجلی تیار کر کے زمین پر منتقل کی جائے، کیونکہ اس طرح زمین کے برعکس بغیر کسی تعطل کے شمسی توانائی سے بجلی کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ خلاء میں فوٹو وولٹیک سیلز کی شمسی توانائی کو بجلی میں منتقل کرنے کی صلاحیت سات گُنا تک زیادہ ہوتی ہے۔ سولر پاور سیٹلائٹ کا خیال ناسا کے ایک سابق انجینئر جان مینکِنز  نے پیش کیا ہے۔ وہ اب ’آرٹیمِس انوویشن مینیجمنٹ سولیوشن‘ نامی ایک امریکی کمپنی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ میکنز کا تیار کردہ ڈیزائن قدرتی طور پر موجود حیاتیاتی اشیاء کے ڈیزائن کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے جسے تکنیکی اصطلاح میں  اپروچ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس ڈیزائن کے تحت سیٹیلائٹ کو بظاہر ایک پھول کی شکل دی گئی ہے جس کی بہت سی پنکھڑیاں یا آئینے روشنی کو اس میں نصب سولر سیلز پر منتقل کریں گی۔سولر سیلز کی مدد سے تیار کردہ بجلی کو مائیکرو ویوز میں تبدیل کر کے انہیں زمین پر خصوصی طور پر تیار کردہ اسٹیشنز پر شعاع کی شکل میں منتقل کیا جائے گا۔ یہ اسٹیشنز مائیکرو ویوز کی صورت میں موصول ہونے والی انرجی کو دوبارہ بجلی میں تبدیل کر کے انہیں صارفین تک پہنچائیں گے۔ماہرین کے مطابق اس طریقے کی بدولت قابل تجدید ذرائع سے زمین کو درکار توانائی کا خواب مکمل طور پر شرمندہ ء تعبیر ہوسکے گا۔ ناسا کے مطابق سولر سیٹیلائٹس کی بدولت زمین تک لاکھوں میگا واٹ بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔اس منصوبے کی لاگت کم رکھنے کے لیے بڑے بڑے آئینوں کی بجائے بہت چھوٹے سائز اور کم وزن کے آئینے اور نہایت باریک فلم سے تیار کردہ سولر سیلز استعمال کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے حصوں کو جوڑ کر بنائے جانے کی بدولت موجودہ ڈیزائن کی لاگت پہلے سے پیش کردہ تمام منصوبوں سے کم رہے گی۔اگر یہ تصور کامیاب ہوتا ہے تو پہلے مرحلے میں چھوٹے سائز اور کم لاگت کا سولر سیٹیلائٹ تیار کر کے اسے زمین کے قریبی مدار میں بھیجا جائے گا۔ اس کی کامیابی کی صورت میں اگلے مرحلے میں اس سولر سیٹیلائٹ کا مکمل ورژن خلاء کا رخ کرے گا

اسامہ طالبان کےساتھ براہ راست رابطے میں تھے:خفیہ دستاویز میں انکشاف


alt

القاعدہ کے مقتول لیڈراسامہ بن لادن کے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں واقع مکان سے امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات کو اب وقفےو قفے سے منظرعام پر لایا جارہا ہے اور ان کے مطابق اسامہ بن لادن ،افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں اور دوسرے جنگجوؤں کے درمیان جنگ زدہ ملک میں نیٹو فوجیوں پر حملوں کے لیے منصوبہ بندی سمیت قریبی تعلقات کار قائم تھے۔واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے برطانوی اخبار گارڈین کو ان خفیہ دستاویزات کے مندرجات سے آگاہ کیا ہے جن کے مطابق اسامہ بن لادن ،ان کے نائب ایمن الظواہری اور افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے بہت قریب تھے اور ان کے درمیان ابلاغی روابط قائم تھے۔امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات میں وہ خط وکتابت اور یادداشتیں بھی شامل ہیں جو اسامہ بن لادن نے لکھوائی تھیں اور ان میں انھوں نے اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ بلاامتیاز حملوں سے گریز کریں کیونکہ اس طرح مسلمانوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔گارڈین نے لکھا ہے کہ ''امریکی اور افغان حکام نے حال ہی میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کو دہشت گردی کی مذمت پر آمادہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان دستاویزات سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر القاعدہ یا اس کے ہم خیال جنگجوؤں کو محفوظ ٹھکانوں کی پیش کش کی ہے۔اس لیے اس کے تناظر میں طالبان اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان قریبی تعاون اور اتحاد کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔امریکی حکام ماضی میں افغانستان میں نیٹو فوجیوں سے لڑنے والے مقامی طالبان اورالقاعدہ کے جنگجوؤں کے درمیان امتیازی لکیر کھینچنے کی بھی کوشش کرتے رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے بھی گذشتہ سال پابندیوں کا ہدف القاعدہ اور طالبان ارکان کی الگ الگ فہرست جاری کی تھی۔اخبار نے لکھا ہے کہ ''اسامہ بن لادن کی اپنے نائب ایمن الظواہری اور طالبان کے قائد ملامحمد عمر سے خط وکتابت ایبٹ آباد میں ان کے کمپاؤنڈ سے ملنے والے ان کے ایک کمپیوٹر کے ڈیٹا میں محفوظ تھی۔ ان کا کورئیر ان خطوط کو میموری اسٹکس پر محفوظ کرکے شہر میں انٹرنیٹ کیفے کے ذریعے ان کے مکتوب الیہان کو بھیجتا تھا۔اسی کورئیر کا سراغ لگانے کے بعد امریکی سی آئی اے کے اہلکار القاعدہ کے مقتول سربراہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے''۔اخبارکی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی کمپیوٹر پر تحریریں ان کی ہلاکت سے صرف ایک ہفتہ قبل سے لے کر کئی سال پرانی تھیں اور ان سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ بوکو حرام کے علاوہ متعدد دوسرے گروپوں سے براہ راست یا بالواسطہ ابلاغی رابطے میں تھے۔دستاویزات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بوکوحرام کے سربراہ گذشتہ اٹھارہ ماہ سے القاعدہ سے اعلیٰ سطح پر رابطوں میں تھے۔واضح رہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں 2مئی 2011ء کو امریکی خصوصی فورسز کی ایک چھاپہ مار کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے بعد سے امریکی اور مغربی میڈیا اور خفیہ ادارے القاعدہ کے مقتول لیڈر کا پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے ناتا جوڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔امریکی اس بات کا سراغ لگانے کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے صرف تین گھنٹے کی مسافت پرواقع ایک فوجی شہر میں کیسے بڑے پُرسکون انداز میں رہ رہے تھے اور ان کی موجودگی کا چار پانچ سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود سراغ کیوں نہیں لگایا جاسکا تھا۔اسامہ بن لادن اپنے خاندان کے ساتھ جس مکان میں رہ رہے تھے،اس کو اب مسمار کردیا گیا تھا اور وہاں اب مبینہ طور پر ایک پارک بنایا جائے گا۔

Sunday, April 29, 2012

Underground mosque Picx Just Visit

Underground mosque Pics..!


Hadrat Anas Radi ALLAH Taala Anhu reported that the Messenger of Allah Peace And Blessings Be Upon Him has said, “Everything has a heart, and the heart of the Qur’an is Yasin. Allah records anyone who recites Yasin as having recited the Qur’an ten times.”
[Sunan Tirmidhi, Vol 2, Page 116 - Sunan Daarimi, Vol 2, Page 336]