This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions..

Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !
Showing posts with label Ptv top news. Show all posts
Showing posts with label Ptv top news. Show all posts

Monday, April 30, 2012

Cheapest Energy light project

alt

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک ایسے نظام کی تیاری کے لیے ابتدائی فنڈنگ فراہم کر دی ہے جس میں سیٹیلائٹ خلاء میں شمسی توانائی کے ذریعے تیار کردہ   انتہائی سستی بجلی زمین پر بھیجے گا۔ اس منصوبے کو انتہائی قابل عمل قرار دیا جا رہا ہے۔منصوبے کو ایس پی ایس الفا  کا نام دیا جا رہا ہے، جو سولر پاور سیٹلائٹ کا مخفف ہے۔ اس نظام کے تحت خلاء میں موجود ایک سیٹیلائٹ پر نصب فوٹو وولٹیک سیلز کے ذریعے شمسی توانائی کو بجلی میں تبدیل کیا جائے گا، جس کے بعد اس بجلی کو زمین پر لگے اسٹیشنز پر منتقل کر دیا جائے گا۔گو کہ یہ تصور نیا نہیں ہے کہ خلاء میں بجلی تیار کر کے زمین پر منتقل کی جائے، کیونکہ اس طرح زمین کے برعکس بغیر کسی تعطل کے شمسی توانائی سے بجلی کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ خلاء میں فوٹو وولٹیک سیلز کی شمسی توانائی کو بجلی میں منتقل کرنے کی صلاحیت سات گُنا تک زیادہ ہوتی ہے۔ سولر پاور سیٹلائٹ کا خیال ناسا کے ایک سابق انجینئر جان مینکِنز  نے پیش کیا ہے۔ وہ اب ’آرٹیمِس انوویشن مینیجمنٹ سولیوشن‘ نامی ایک امریکی کمپنی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ میکنز کا تیار کردہ ڈیزائن قدرتی طور پر موجود حیاتیاتی اشیاء کے ڈیزائن کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے جسے تکنیکی اصطلاح میں  اپروچ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس ڈیزائن کے تحت سیٹیلائٹ کو بظاہر ایک پھول کی شکل دی گئی ہے جس کی بہت سی پنکھڑیاں یا آئینے روشنی کو اس میں نصب سولر سیلز پر منتقل کریں گی۔سولر سیلز کی مدد سے تیار کردہ بجلی کو مائیکرو ویوز میں تبدیل کر کے انہیں زمین پر خصوصی طور پر تیار کردہ اسٹیشنز پر شعاع کی شکل میں منتقل کیا جائے گا۔ یہ اسٹیشنز مائیکرو ویوز کی صورت میں موصول ہونے والی انرجی کو دوبارہ بجلی میں تبدیل کر کے انہیں صارفین تک پہنچائیں گے۔ماہرین کے مطابق اس طریقے کی بدولت قابل تجدید ذرائع سے زمین کو درکار توانائی کا خواب مکمل طور پر شرمندہ ء تعبیر ہوسکے گا۔ ناسا کے مطابق سولر سیٹیلائٹس کی بدولت زمین تک لاکھوں میگا واٹ بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔اس منصوبے کی لاگت کم رکھنے کے لیے بڑے بڑے آئینوں کی بجائے بہت چھوٹے سائز اور کم وزن کے آئینے اور نہایت باریک فلم سے تیار کردہ سولر سیلز استعمال کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے حصوں کو جوڑ کر بنائے جانے کی بدولت موجودہ ڈیزائن کی لاگت پہلے سے پیش کردہ تمام منصوبوں سے کم رہے گی۔اگر یہ تصور کامیاب ہوتا ہے تو پہلے مرحلے میں چھوٹے سائز اور کم لاگت کا سولر سیٹیلائٹ تیار کر کے اسے زمین کے قریبی مدار میں بھیجا جائے گا۔ اس کی کامیابی کی صورت میں اگلے مرحلے میں اس سولر سیٹیلائٹ کا مکمل ورژن خلاء کا رخ کرے گا

اسامہ طالبان کےساتھ براہ راست رابطے میں تھے:خفیہ دستاویز میں انکشاف


alt

القاعدہ کے مقتول لیڈراسامہ بن لادن کے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں واقع مکان سے امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات کو اب وقفےو قفے سے منظرعام پر لایا جارہا ہے اور ان کے مطابق اسامہ بن لادن ،افغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں اور دوسرے جنگجوؤں کے درمیان جنگ زدہ ملک میں نیٹو فوجیوں پر حملوں کے لیے منصوبہ بندی سمیت قریبی تعلقات کار قائم تھے۔واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ایک ذریعے نے برطانوی اخبار گارڈین کو ان خفیہ دستاویزات کے مندرجات سے آگاہ کیا ہے جن کے مطابق اسامہ بن لادن ،ان کے نائب ایمن الظواہری اور افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے بہت قریب تھے اور ان کے درمیان ابلاغی روابط قائم تھے۔امریکیوں کے ہاتھ لگنے والی دستاویزات میں وہ خط وکتابت اور یادداشتیں بھی شامل ہیں جو اسامہ بن لادن نے لکھوائی تھیں اور ان میں انھوں نے اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ بلاامتیاز حملوں سے گریز کریں کیونکہ اس طرح مسلمانوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔گارڈین نے لکھا ہے کہ ''امریکی اور افغان حکام نے حال ہی میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کو دہشت گردی کی مذمت پر آمادہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان دستاویزات سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ طالبان نے ایک مرتبہ پھر القاعدہ یا اس کے ہم خیال جنگجوؤں کو محفوظ ٹھکانوں کی پیش کش کی ہے۔اس لیے اس کے تناظر میں طالبان اور القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کے درمیان قریبی تعاون اور اتحاد کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جارہا ہے۔امریکی حکام ماضی میں افغانستان میں نیٹو فوجیوں سے لڑنے والے مقامی طالبان اورالقاعدہ کے جنگجوؤں کے درمیان امتیازی لکیر کھینچنے کی بھی کوشش کرتے رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے بھی گذشتہ سال پابندیوں کا ہدف القاعدہ اور طالبان ارکان کی الگ الگ فہرست جاری کی تھی۔اخبار نے لکھا ہے کہ ''اسامہ بن لادن کی اپنے نائب ایمن الظواہری اور طالبان کے قائد ملامحمد عمر سے خط وکتابت ایبٹ آباد میں ان کے کمپاؤنڈ سے ملنے والے ان کے ایک کمپیوٹر کے ڈیٹا میں محفوظ تھی۔ ان کا کورئیر ان خطوط کو میموری اسٹکس پر محفوظ کرکے شہر میں انٹرنیٹ کیفے کے ذریعے ان کے مکتوب الیہان کو بھیجتا تھا۔اسی کورئیر کا سراغ لگانے کے بعد امریکی سی آئی اے کے اہلکار القاعدہ کے مقتول سربراہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے''۔اخبارکی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی کمپیوٹر پر تحریریں ان کی ہلاکت سے صرف ایک ہفتہ قبل سے لے کر کئی سال پرانی تھیں اور ان سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ بوکو حرام کے علاوہ متعدد دوسرے گروپوں سے براہ راست یا بالواسطہ ابلاغی رابطے میں تھے۔دستاویزات سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بوکوحرام کے سربراہ گذشتہ اٹھارہ ماہ سے القاعدہ سے اعلیٰ سطح پر رابطوں میں تھے۔واضح رہے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں 2مئی 2011ء کو امریکی خصوصی فورسز کی ایک چھاپہ مار کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعہ کے بعد سے امریکی اور مغربی میڈیا اور خفیہ ادارے القاعدہ کے مقتول لیڈر کا پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے ناتا جوڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔امریکی اس بات کا سراغ لگانے کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے صرف تین گھنٹے کی مسافت پرواقع ایک فوجی شہر میں کیسے بڑے پُرسکون انداز میں رہ رہے تھے اور ان کی موجودگی کا چار پانچ سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود سراغ کیوں نہیں لگایا جاسکا تھا۔اسامہ بن لادن اپنے خاندان کے ساتھ جس مکان میں رہ رہے تھے،اس کو اب مسمار کردیا گیا تھا اور وہاں اب مبینہ طور پر ایک پارک بنایا جائے گا۔

Sunday, April 29, 2012

Underground mosque Picx Just Visit

Underground mosque Pics..!


Hadrat Anas Radi ALLAH Taala Anhu reported that the Messenger of Allah Peace And Blessings Be Upon Him has said, “Everything has a heart, and the heart of the Qur’an is Yasin. Allah records anyone who recites Yasin as having recited the Qur’an ten times.”
[Sunan Tirmidhi, Vol 2, Page 116 - Sunan Daarimi, Vol 2, Page 336]

PTV TOP STORY