Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !

Follow by Email

Saturday, April 28, 2012

اسامہ بن لادن قتل کی تصاویر نہیں شائع کی جائیں گی۔ امریکی جج


ایک امریکی وفاقی جج نے صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کو ایسا حکم دینے سے انکار کر دیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے آپریشن کی تصاویر اور ویڈیو جاری کی جائیں۔القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ امریکی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا لیکن قریب ایک برس بیت جانے کے بعد بھی بن لادن کی کوئی تصویر یا ویڈیو سامنے نہیں آ سکی ہے۔ امریکا میں سرکاری معاملات پر نظر رکھنے والے ادارے ’جوڈیشل واچ‘ نے محکمہ ء دفاع اور سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی سے دو مئی کے آپریشن کی تصاویر یا ویڈیو ریلیز کرنے کی اپیل کر رکھی تھی۔اس اپیل کے جواب میں امریکی محکمہ ء دفاع کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایبٹ آباد آپریشن کی کوئی تصویر یا ویڈیو موجود ہی نہیں ہے۔اسی طرح امریکی محکمہء دفاع نے یہ بھی کہا کہ اُسے نہ تو کوئی ڈیتھ سرٹیفیکیٹ ملا ہے، نہ کوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ، نہ ہی کسی ڈی این اے معائنے کے نتائج اور نہ ہی ایسی کوئی دستاویزات، جن سے یہ پتہ چل سکے کہ بن لادن کی موت کی صورت میں حکومت نے اُس کی لاش کو کس طرح سے ٹھکانے لگانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ البتہ امریکی محکمہ ء دفاع کے اس مؤقف کے برعکس امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا کہنا تھا کہ ان کے پاس دو مئی کے آپریشن سے متعلق 52 ریکاڈنگز موجود ہیں لیکن یہ ’خفیہ مواد‘ ہے اور کئی دیگر وجوہات کی بناء پر اسے ریلیز نہیں کیا جا سکتا۔جوڈیشل واچ‘ نے ’فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ‘ کے تحت اس تک رسائی کی اپیل کر رکھی تھی۔ فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت حکومت اِس بات کی پابند ہے کہ اگر قومی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اور کسی کی ذاتیات پر حرف نہ آتا ہو تو وہ کسی کو بھی مفت یا کم معاوضے کے بدلے وفاقی حکومت کے ریکارڈ کی نقول فراہم کرے۔امریکی محمکہ ء دفاع اور انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کی طرف سے یہ جوابات ملنے کے بعد ’جوڈیشل واچ‘ نے واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا اور اب اس عدالت کا بھی کہنا ہے کہ وہ ایبٹ آباد آپریشن سے متعلق معلومات کو ریلیز کرنے کے لیے اوباما انتظامیہ کو کوئی بھی حکم نامہ جاری نہیں کرے گی۔ واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت کے جج ’جیمز بوس بیرگ‘ کا کہنا تھا، ’’ایک تصویر ہزار الفاظ سے بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کیس میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور تدفین کے بارے میں حکومتی زبانی وضاحت کافی ہے۔ یہ کورٹ مزید معلومات شائع کرنے کا کوئی بھی حکم نامہ جاری نہیں کرے گی۔تجزیہ کاروں کے نزدیک اسامہ بن لادن کا تعاقب تقریباً ایک عشرے تک جاری رہا تاہم یہ جاننے میں اِس سے کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کہ امریکی نیوی سیلز کے ایک ایلیٹ یونٹ کے ہاتھوں دُنیا کے اِس سب سے زیادہ مطلوب شخص کی موت کن حالات میں ہوئی۔

0 comments:

Post a Comment