Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !

Follow by Email

Friday, April 20, 2012

لاش کے انتطار میں آنسو تھمتے ہی نہیں ہیں


دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودے کے نیچے دبنے والے پاکستانی فوجی محمد ندیم خِان کے لواحقین بھی ابھی تک امیدو بیم کی کیفیت سے دو چار ہیں۔ندیم خان ان ایک سو اٹھائیس پاکستانی فوجیوں میں سے ایک ہیں جو گزشتہ سنیچر کو پیش آنے والے اس حادثے کے بعد لاپتہ ہیں۔محمد ندیم خان کا تعلق پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے ضلع باغ کے ایک چھوٹے سےگاؤں رنگلہ سے ہے۔ان کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں جبکہ والدین وفات پا چکے ہیں۔ ندیم کی شادی تین سال پہلے ہوئی لیکن ان کا کوئی بچہ نہیں۔
وہ قریباً تیرہ سال پہلے پاکستانی فوج کی جموں کشمیر نیشنل لائٹ انفنٹری(جے کے این ایل آئی ) میں بھرتی ہوئے تھے۔ سنہ دو ہزار دس کے آخر میں انہیں پہلی بار سیاچن میں تعینات کیا گیا اور اس سے پہلے وہ بلوچستان میں تعینات تھے۔ندیم ایک ماہ کی چھٹیاں گزارنے کے بعد چھ مارچ کو واپس ڈیوٹی پر سیاچن گئے تھے اور پانچ دن قبل گرنے والے برفانی تودے کی وجہ سے ندیم کے عزیزوں کا پریشان ہونا فطری تھا کیوں کہ ان کی یونٹ وہی ہے جس کے سپاہی تودے کے نیچے دب گئے ہیں۔ندیم کے ایک بھائی محمد اشفاق خان نے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں فوج کی ہیلپ لائن کے ذریعے پتہ چلا کہ لاپتہ ہونے والوں میں ان کے بھائی بھی تھے۔ان کے سب سے چھوٹے ماجد خان نے کہا اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج کے ایک کرنل ان کے پاس آئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ماجد کے مطابق فوجی کرنل نے انہیں بتایا کہ ’لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے لیکن ہمیں ہر طرح کی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے‘۔
"وہ( ندیم خان) تھوڑے پریشان تھے جب وہ گھر سے گئے تھے۔ ان کی وہاں تعیناتی پر کوئی بھی خوش نہیں تھا۔سیاچن کا سیکٹر مشکل ہے اس لیے سارے گھر والے ان کے لیے ہر وقت پریشان رہتے تھے۔"منشاد خان محمد ندیم خان کے لواحقین کہتے ہیں کہ وہ حالات کے سامنے بے بس ہیں لیکن وہ دعا گو ہیں کہ ان کے بھائی زندہ گھر لوٹ آئیں۔محمد ندیم کے بڑے بھائی محمد منشاد خان کا کہنا تھا کہ مخصوص جغرافیائی اور موسمی حالات کی وجہ سے ان کے بھائی سیاچن میں تعیناتی پر خوش نہیں تھے اور نہ ہی خاندان کا کوئی اور شخص اس پر خوش تھا۔
’وہ( ان کا بھائی) تھوڑے پریشان تھے جب وہ گھر سے گئے تھے۔ ان کی وہاں تعیناتی پر کوئی بھی خوش نہیں تھا۔سیاچن کا سیکٹر مشکل ہے اس لیے سارے گھر والے ان کے لیے ہر وقت پریشان رہتے تھے‘۔لاپتہ ہونے والے سپاہی ندیم خان نےگذشتہ جمعہ کو ہی اپنی اہلیہ اور بھائی سے ٹیلیفون پر بات کی تھی۔ماجد خان کے مطابق ’انھوں نے ہر ایک فرد کا نام لے کر خیریت دریافت کی‘ بہنوں اور خاندان کے ہر فرد کے بارے میں پوچھا‘۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی ہر دوسرے روز گھر فون کرتے تھے۔ وہ اپنے بھائی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہ سادہ ، ہنس مکھ اور خوش دل انسان تھے اور اور وہ جب بھی گھر آتے تو وہ ہمارے ساتھ مذاق کرتے اور وہ ایسے نہیں تھے جو سنجیدہ یا چپ ہوکر بیٹھ رہتے‘۔محمد ندیم کی اہلیہ سے جب بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کے خاندان والوں نے کہا کہ وہ صدمے میں ہیں۔ محمد ماجد نے بتایا کہ ’وہ ( بھابھی) صد مے کی حالت میں ہیں، بات نہیں کر سکتیں۔ وہ رو رہی ہیں اور ان کے آنسوؤں تھمتھے ہی نہیں ہیں‘۔واضح رہے کہ گذشتہ سنیچر کو دنیا کے بلند ترین محاز سیاچن پر ایک سو چوبیس فوجیوں سمیت ایک سو انتالیس افراد برفانی تودے کے نیچے دب گیے تھے جن میں سے فوجی حکام کے مطابق محمد ندیم خان سمیت پینتیس فوجیوں کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے۔
بلند ترین محاز سیاچن پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان لڑائی میں دونوں طرف سے کچھ ہی فوجی ہلاک ہوئے ہیں لیکن موسمی حالات کی وجہ سے ہلاک یا معذور ہونے والے فوجیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔

0 comments:

Post a Comment