Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !

Follow by Email

Friday, April 20, 2012

صدر زرداری کو روک کر نواز شریف کو سیاچن کا دورہ کرایا گیا


اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) نواز شریف کے غیر متوقع دورہ سیاچن کا منصوبہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے حالیہ دنوں میں پشاور میں ہونے والے خفیہ رابطوں اور چند انڈر سٹینڈنگ کے بعد ہوا ہے اور بتایا گیا ہے کہ امریکیوں نے اس صلح میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور نواز شریف کی اس تجویز کو دونوں ملکوں میں بہت اہمیت دی جارہی ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنی اپنی فوجیں دنیا کے اس بلند ترین جنگی محاذ سے ہٹا لیں اور نواز نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں پہل کرے۔
ذرائع کہتے ہیں کہ جنرل کیانی اور نواز شریف کے درمیان ان پانچ سال پرانے فاصلوں کو ختم کرنے کی بنیاد نواز شریف کے پچھلے ہفتے دورہ پشاور کے دوران رکھی گئی۔ نواز شریف کے ساتھ اس دورے میں پرویز رشید، مہتاب عباسی بھی تھے اور وہاں کچھ ایسے رابطے کیے گئے جس کے بعد نواز شریف اور کیانی کے درمیان بلاواسطہ رابطے ہوئے اور ان بہتر ہوتے تعلقات کی پہلی نشانی نواز شریف کا دورہ سیاچن ہے جو فوج کے سربراہ کی باقاعدہ منظوری اور اس ہدایت کے بعد ہوا کہ سابق وزیراعظم کو کورکمانڈر خود استقبال کریں گے۔ اس دورہ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاچن میں کھڑے ہو کر نواز نے پاکستان اور بھارت کو اپنی فوجیں واپس بلانے کی تجویز دی۔
نواز شریف جنرل کیانی کو جنرل مشرف کا قریبی ساتھی سمجھتے رہے ہیں اور ان کے آرمی چیف بننے کے بعد ان سے ہاتھ ملانے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ تاہم اب بدلتے حالات میں نواز شریف جہاں جنرل مشرف کے بہت سارے سیاسی ساتھیوں کو اپنے ساتھ ملانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے، اب انہوں نے جنرل مشرف کے فوجی کمانڈروں سے بھی تعلقات بہتر بنانے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔ جنرل پاشا کی آئی ایس آئی سے رخصتی کے بعد اب نواز شریف کے لیے کام آسان ہوگیا ہے کہ وہ فوجی قیادت سے اپنے بگڑے ہوئے تعلقات کو بہتر کریں اور اگلے سال ہونے والے الیکشن میں اپنی جیت کے امکانات کوبہتر کریں کیونکہ اگر نواز لیگ انتخاب جیتتی ہے تو انہیں جنرل کیانی کی نومبر دو ہزار تیرہ تک ساتھ کام کرنا پڑے گا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ یہ سوچ کر جنرل کیانی بھی نواز شریف سے تعلقات بہتر کرنے میں دلچیسپی لے رہے ہیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کے دورہ سیاچن کو اتنا خفیہ رکھا گیا کہ کسی کو علم تک نہ ہوا کیونکہ اب تک یہ سمجھا جارہا تھا کہ وہاں کا موسم اتنا خراب ہے کہ وہاں صدر زرداری بھی نہ جا سکے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ صدر کو منع کیا گیا ہے کہ وہاں کا موسم خراب ہے جس وجہ سے ان کا طیارہ وہاں لینڈ نہیں کر سکتا تھا۔ اس وجہ سے صدر سیاچن جانے کی بجائے ملتان چلے گئے جہاں انہوں نے سرائیکی صوبہ اور سرائیکی بنک کی باتیں کیں۔ تاہم یہ بات کسی نے اب تک نہیں بتائی کہ اگر صدر کا طیارہ سیاچن نہیں اتر سکتا تھا تو پھر نواز شریف کا کیسے اتر گیا اور کس طرح کورکمانڈر نے ان کا استقبال کیا اور ان کے لیے تمام انتظامات بھی کیے گئے تھے۔
ایک سرکاری ذریعے نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا یہ بھی صدر زرداری کے لیے کوئی پیغام ہے جو انہیں سیاچن کا دورہ نہ کرا کے بھیجا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یقیناً یہ سوال اب حکومت سے پو چھا جائے گا کہ اگر نواز شریف سیاچن پہنچ سکتا ہے تو اب تک وزیراعظم گیلانی اور صدر زرداری کیوں نہیں گئے تاکہ اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھا سکتے۔ حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ نواز شریف کا دورہ بھی ان کے لیے غیر متوقع تھا کیونکہ اب تک وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ سیاچن کا موسم خراب ہونے کی وجہ سے وہاں طیارہ لینڈ نہیں کر سکتا تھا۔ ایک دن پہلے ہی اسلام آباد کے صحافیوں کو سیاچن لے جانے والا طیارہ سکردو سے واپس آگیا تھا کیونکہ اگے کا موسم خراب تھا۔ اس سے پہلے ہی دو تین دفعہ یہ پلان بنایا گیا اور صحافیوں کو آخری لحمے پر اس سفر کو ملتوی کرنے کی اطلاع دی گئی۔
تاہم نواز شریف اس حوالے سے خوش قسمت رہے کہ وہ پہلے پاکستانی لیڈر ہیں جو سیاچن میں برف میں دبے ہوئے پاکستانی فوجیوں کے لیے جاری کوششون کا معائنہ کرنے وہاں پہنچے ۔ نواز شریف اپنے ساتھ امدادی سامان اور کمبل لے کر گئے تھے اور انہوں نے وہاں برف کے تلے دبے ہوئے پاکستانی فوجیوں کے لیے پانچ لاکھ روپے فی کس کے حساب سے ان کے خاندانوں کے لیے مدد کا بھی اعلان کیا۔ نواز شریف کے جنرل کیانی سے تعلقات بہتری کیسے ہوئی اس کے بھی پیچھے ذرائع کوئی اور کہانی سناتے ہیں۔
ایک انتہائی قابل اعتماد ذریعے کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور جنرل کیانی کو قریب لانے میں امریکیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ نواز شریف کے پچھلے دورہ دبئی کا ذکر کرتے ہیں جہاں ان کی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی چاہتے ہیں کہ فوج اور نواز لیگ دہشت گردی کے مسئلے پر ایک پالیسی لے کر چلیں کیونکہ اب تک فوج اور امریکہ کو مسلسل یہ تاثر مل رہا تھا کہ پنجاب حکومت دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں امریکہ شہباز شریف کی اس تقریر کا حوالہ دیتے ہیں۔
جس میں انہوں نے طالبان کو کہا تھا کہ وہ ان کے صوبے میں دہشت گرد حملے مت کریں کیونکہ ان کا دشمن ( امریکہ) مشترکہ ہے۔ اس بیان پر خاصی تنقید بھی ہوئی تھی۔ اس طرح فوجی اور نواز شریف کے حلقوں میں یہ بات بھی تواتر سے کہی جارہی تھی کہ شاید زرداری حکومت انہیں ایک دوسرے سے دور کرنے کی کامیاب پالیسی پر عمل پیرا تھی۔ اگرچہ ماضی میں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان نے جنرل کیانی سے رات کے اندھیرے میں جی ایچ کیو میں خفیہ ملاقاتیں کر کے فوج کو یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ نواز شریف اور ان کے پارٹی فوج کے خلاف نہیں تھے۔ تاہم ان کوششوں کو زیادہ کامیابی نہ ملی کیونکہ ان خفیہ رابطوں کے باوجود بھی نواز شریف اور جنرل کیانی کے درمیان دوریاں ختم نہ ہو سکیں۔
نواز شریف کمپپ کو یہ بھی شکایت تھی کہ امریکیوں کو نواز شریف سے دور کرنے میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا اور امریکیوں کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ نواز شریف اور طالبان ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ نواز شریف نے حقانی سے بدلہ اس وقت لینے کی کوشش کی جب میمو سکینڈل سامنے آیا اور نواز شریف نے جب یہ دیکھا کہ حقانی شاید بچ جائیں تو وہ ایک درخواست لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے اور چیف جسٹس نے اسی وقت ان کی فرمائش پر ایک عدالتی کمیشن بھی بنا دیا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پھر نواز شریف کو احساس ہوا کہ انہیں تو اس سارے کیس میں استعمال کر لیا گیا تھا اور وہ اس کمیشن سے دور ہو گئے۔
ان کا مقصد حقانی کے لیے مشکلات پیدا کرنا تھا جو انہوں نے کر لی تھیں۔ تاہم اس دوران انہیں جب پتہ چلا کہ امریکی انہیں طالبان کے قریب سمجھتے ہیں تو انہوں نے امریکیوں سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی۔ ان حالیہ کوششوں کو اس وقت کامیابی ہوئی جب امریکی سفیر نے ان سے اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس میں ملاقات کی اور اس کے بعد نواز شریف کی پارٹی نے نیٹو سپلائی کو کھولنے کی پارلیمنٹ قرارداد کی حمایت کی۔ ذرائع کہتے ہیں کہ جب پچھلے دنوں نواز شریف نے پشاور کا دورہ کیا تو وہاں ان کی ملاقات چند ایسے لوگوں سے ہوئی جنہوں نے جنرل کیانی اور ان کے درمیان فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔
نواز شریف کو یہ پیغام دیا گیا کہ جنرل کیانی کو نواز شریف سے بدزن کرنے والے جنرل پاشا تھے اور انہیں بہت دیر بعد پتہ چلا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی انہیں نواز شریف اور عمران خان کے متعلق درست رپورٹس نہیں دے رہے تھے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ نواز شریف کو یہ تاثر دیا گیا کہ جنرل کیانی کو ان سے کوئی شکایت نہیں تھی حالانکہ نواز شریف نے ان کی مدت ملازمت پر کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا تھا۔ نواز کو اب یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنرل پاشا کی مدت ملازمت میں جنرل کیانی نے دلچسپی نہیں دکھائی تھی کیونکہ انہیں پتہ چل گیا تھا کہ نواز اور عمران کے حوالے سے جنرل پاشا کی پالیسی درست نہیں تھی۔ نواز کمیپ کا کہنا تھا کہ جب سے جنرل پاشا اپنے عہدے سے ہٹے ہیں عمران خان کی پارٹی کو جوائن کرنیو الوں کا طوفان اچانک رک گیا ہے۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے وہ کہتے ہیں جنرل پاشا ہی دراصل عمران خان کے پیچھے اپنا کردار ادا کر رہے تھے اور ان کے جانے کے ساتھ ہی سونامی میں کمی آگئی تھی۔
ذرائع کہتے ہیں کہ اب نواز شریف کے دورہ سیاچن سے ثابت ہو گیا ہے کہ نواز لیگ اور جنرل کیانی میں قائم فاصلے بڑی حد تک کم ہوئے ہیں۔ نواز شریف نے فوج کو بتایا تھا کہ وہ فوجیوں کے خاندانوں کو پیسے دینا چاہتے ہیں جو کہ پنجاب حکومت کے خزانے سے دیے جارہے ہیں اور اس پر فوج نے منظوری دی کہ اگر وہ یہ رقم دیتے ہیں تو یہ بہتر ہوگا۔ تاہم پاکستان اور ہندوستان کے سنجیدہ حلقوں میں نواز شریف کے اس بیان کہ بہت تعریف کی جارہی ہے جو انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو سیاچن سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہیے۔
نواز شریف نے اس پر بس نہیں کی بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان کو پہل کرنی چاہیے۔ اگرچہ نواز شریف نے اس بات کی وضاحت نہیں کہ ان کی پاکستان کی پہل کرنے سے کیامراد ہے تاہم بہت سارے تجزیہ نگاروں کے خیال میں نواز شریف نے ایک شاندار بیان دیا ہے جو ان دونوں ملکوں کے درمیان پچیس سال سے جاری دنیا کی بلند ترین جنگی محاز کو ٹھنڈا کرنے میں مدد دے سکتا ہے جہاں پہلے ہی دونوں ملکوں کے اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ فوجی اپنی جانیں دے چکے ہیں اور یہ جانیں ایک دوسرے پر چلائی ہوئی گولیوں سے زیادہ وہاں کے ابنارمل سرد موسم کی وجہ سے ہوئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی اس بات کا پتہ نہیں چل سکا کہ کیا نواز شریف نے سیاچن میں کھڑے ہو کر پاکستان کو اپنی فوجیں سیاچن سے واپس منگوانے کی تجویز پاکستان آرمی کمانڈ سے مشورے کے بعد دی ہے یا پھر انہوں نے وہ بات کی ہے جو ان کے خیال میں بھارت اور پاکستان کے مفاد میں ہے کہ ایک ایسے بیس ہزار بلند محاز پر لڑنے کا کیا فائدہ جہاں ان کے فوجی ایک دوسرے سے جنگ لڑنے کی بجائے موسم سے لڑ لڑ کر اپنی جانیں دے رہے ہیں۔
منگل کو دنیا ٹی وی کے مقبول پروگرام “کیوں” میں اس کے میزبان ارشد شریف کے سوال کے جواب میں بھارتی لوک سبھا کے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ممبر اور ادکار شتروگھن سہنا نے نواز شریف کی اس تجویز کی بھر پور حمایت کی اور کہا دونوں ملکوں کو اپنی فوجیں سیاچن سے بلانی چاہیں۔ بھارتی ادکار نے سیاچن ٹریجڈی پر افسو س کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی فوجیوں کے متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمددری اور دعا بھی کی۔ اسی پروگرام میں پیپلز پارٹی کے وزیر قمرالزماں کائرہ اور تحریک انصاف کے ترجمان شفقت محمود نے بھی نواز شریف کے اس غیرمعمولی بیان کی حمایت کی۔ تاہم اب تک اگر کوئی چپ ہے تو وہ دونوں ملکوں کا جی ایچ کیو اور ان کا فارن آفس ہے، جن کی طرف سے نواز شریف کی اس غیر معمولی تجویز پر ردعمل کا انتظار ہے کیونکہ اس تجویز کو مان کر دونوں ملک ایک دوسرے کے عوام پر بہت بڑا احسان کر سکتے ہیں جہاں دونوں ملکوں کے آٹھ ہزار فوجی اپنی جانیں دے چکے ہیں۔
بحوالہ ٹاپ اسٹوری

0 comments:

Post a Comment