Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !

Follow by Email

Friday, April 20, 2012

مصر کا نیا صدر بارہ سال جیل میں رہنے والا سخت گیر جہادی ہو گا

مصر میں سب سے بڑی سیاسی جماعت اخوان نے ایک ایسے شخص کو صدارتی امیدوار مقرر کردیا ہے جو اسرائیل کا سخت مخالف اور کٹر جہادی ہے، اسے انہیں وجوہات کی بنا پر بارہ سال جیل میں رکھا گیا تھا۔ اس کی فتح میں بھی کوئی شبہ باقی نہیں رہا ہے۔ اس طرح تقریبا ایک صدر قبل مصری عالم دین حسن البنا نے جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر اب آ پہنچی ہے۔حسن البنا مصر کے ممتاز مذہبی رہنما اور عظیم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی تھے۔
وہ 1906ء میں مصر کی بستی محمودیہ کے ایک علم دوست اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کرلیا اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ قاہرہ کے دارالعلوم میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں سند حاصل کی۔
دیہاتی علاقوں کی نسبت شہروں میں اخلاقی انحطاط زیادہ ہوتا ہے، قاہرہ کی بھی یہی صورت تھی۔ حسن البنا جب اپنے قصبہ سے قاہرہ پہنچے تو ان کی حساس طبیعت پر شہر کے غیر اسلامی رحجانات نے گہرا اثر کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جارہا ہے اور فرعون کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ علماء اگرچہ غیر اسلامی نظریات کے خلاف وعظ و نصیحت تو کرتے رہتے ہیں لیکن ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی تحریک موجود نہیں تو انہوں نے 1928ء میں شہر اسماعیلیہ میں، جہاں وہ تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد استاد مقرر ہوگئے تھے، اخوان المسلمون کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ 1933ء میں اخوان کا صدر دفتر اسماعیلیہ سے قاہرہ منتقل کردیا گیا۔
حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اخوان المسلمون کی تنظیم کے ذریعے انہوں نے اپنے اسی نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کا کام شروع کردیا۔ جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم کردی گئیں۔ طلبہ اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے "اخوات المسلمین" کے نام سے علیحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اخوان نے مدرسے بھی قائم کیے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ایسا نظام تربیت قائم کیا جس کے تحت اخوان کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں۔
حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزمائے جارہے ہیں اور وہ سخت ناکام ہوئے ہیں لہٰذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کے موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔ حسن البنا نے مصریوں میں جہاد کی روح بھی پھونکی اور اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا اور بتایا کہ مصر ہی کے ایک عالم امام بدر الدین عینی شارح بخاری ایک سال جہاد کرتے تھے اور ایک سال تعلیم و تدریس میں مصروف رہتے تھے اور ایک سال حج کرتے تھے۔
اخوان نے اخبار اور رسالوں کی طرف بھی توجہ دی۔ 1935ء میں رشید رضا کے انتقال کے بعد حسن البنا نے ان کے رسالے "المنار" کی ادارت سنبھال۔ اخوان نے خود بھی ایک روزنامہ، ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ جاری کیا۔ روزنامہ اخوان المسلمون مصر کے صف اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔ ان مطبوعات اور چھوٹے چھوٹے کتابوں کے ذریعے اخوان نے اپنے اغراض و مقاصد کی پر زور تبلیغ کی اور بتایا کہ اسلام کس طرح زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دنیا کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ علمی لحاظ سے اخوان کا کام اگرچہ اتنی بلند علمی سطح پر نہیں تھا جس پر پاکستان میں اس کی ہم خیال جماعت اسلامی نے انجام دیا لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جماعت اسلامی کے علاوہ اسلامی دنیا کی کسی اور تنظیم نے فکری میدان میں اخوان کے برابر کام نہیں کیا۔
دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت مشرق کے بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی لیکن اخوان کا سب سے مضبوط مرکز مصر ہی تھا۔ جنگ کے بعد اخوان نے عوامی پیمانے پر سیاسی مسائل میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے 1948ء میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلاء کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے سرکاری افواج کے مقابلے میں زیادہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ دوران جنگ انگریزوں نے آزادی مصر کا جو اعلان کیا تھا اسے اخوان نے فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا، اور دو سال کے اندر اندر اخوان کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ہمدردوں کی تعداد اس سے دو گنی تھی۔ اخوان کی روز بروز مقبولیت سے اگر ایک طرف شاہ فاروق کو خطرہ محسوس کرنے لگا تو دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان پر پابندی لگائی جائے چنانچہ 9 دسمبر 1948ء کو مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار اخوان کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ تین ہفتے بعد وزیراعظم نقراشی پاشا کو ایک نوجوان نے قتل کردیا۔ حسن البنا کو آخر تک گرفتار نہیں کیا گیا اور 12 فروری 1949ء کی شب قاہرہ میں اس عظیم رہنما کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔
پھر اخوان پر سختی کا دور گزرتا رہا مگر اب ایک بار پھر مصری ڈکٹیٹر کی رخصتی کےبعد جمہوری دور میں اخوان پر سے پابندی ہٹی اور اخوان نے انتخابات میں حصہ لیا اور مصر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔ اس وقت پارلیمان میں اخوان کی اکثریت ہے اور دوسری اسلامی پارٹیوں کو ملا کر ہر طرف اسلام پسند ہی نظر آرہے ہیں۔مصر میں حکمران صدر ہوتا ہے اور اب اخوان نے اپنے ایک نائب مرشد کو صدارتی امیدوار نامزد کردیا ہے جس کے جیتنے میں کوئی بھی شک نہیں اس طرح مصر کا اگلا صدر اسرائیل کا سخت مخالف، کٹر جہادی اور سخت گیر مسلمان ہو گا۔
اسی بارے میں بات کرتے ہوئےافريقہ اور مشرق وسطی امور كے ماہر زوگہ آباتہ نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے ساتھ بات چيت كرتے ہوئے كہا : مصر كے انتخابات اور عوام كی ووٹنگ میں وسيع پيمانے پر شركت ايك ريكارڈ ہے كہ جس سے مصری عوام كے سياسی شعور اور جوش و خروش كا پتہ چلتا ہے ۔انہوں نے واضح كيا : مصر كی صورتحال اور اخوان المسلمين كی كاميابی نے پورے خطے كو ہلا كر ركھ ديا ہے جبكہ اس نے اسرائيل كو سب سے زيادہ متاثر كيا ہے ۔زوگہ نے مزيد كہا : مصر كے اسی ملين لوگ امريكہ ، اسرائيل اور اپنی فوج كی بھرپور سازشوں كا شكار تھے ليكن انتخابات میں عوام كی پرجوش شركت نے دشمنوں اور بدخواہوں كو مايوس كر ديا ہے ۔
اسی تناظر میںمصر میں رواں سال مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے اخوان المسلمین نے اپنے نائب سربراہ خیرت الشاطر کو امیدوار نامزد کیاہے۔پارٹی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، نائب سربراہ خیرت الشاطر اُس کے صدارتی امیدوار ہوں گے۔اگرچہ عام انتخابات میں پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے بعد اخوان المسلمین کا موقف رہا ہے کہ وہ مئی کے صدارتی انتخابات میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گی تاکہ اقتدار پر اسلام پسندوں کے قبضے کا تاثر نہ پھیل سکے لیکن اب اخوان المسلمین بلا واسطہ صدارتی انتخابات لڑے گی۔
نامہ نگاروں کے مطابق، اخوان المسلمین کی طرف سے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد برسرِ اقتدار فوجی کونسل اور سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کے درمیان اختلافات بڑھنے کا خدشہ ہے۔اخوان المسلمین کا کہنا ہے اس نے اپنا فیصلہ اس لیے واپس لیا تاکہ انقلاب کے ثمرات اور فوج کی حکومت سے علیحدگی کو یقینی بنایا جا سکے اور سابق حکومت کے حصے دار رہنے والے صدارتی امیدوار فائدہ نہ اٹھا سکیں۔واضح رہے کہ خیرت الشاطر سابق صدر حسنیٰ مبارک کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد گزشتہ سال بارہ سال کی اسیری کے بعد رہا ہوئے تھے۔ مصر میں چونکہ اخوان مسلمین ایک کلعدم جماعت تھی اس لیے خیرت الشاطر کو جماعت کے ساتھ تعلقات رکھنے کی بنا پر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ ایک کٹر مسلمان اور جہادی ہیں اور اسرائیل کے خلاف جہاد پر یقین رکھتے ہیں۔
اس اعلان کے بعد اخوان کے نامزد اميدوار خيرت الشاطر نے نائب مرشد کے اپنے تنظيمي عہدے سے استعفي پيش کيا کيونکہ انتخاب ميں شرکت کے لئے ان کا ايسا کرنا ضروري تھا۔ اخوان کے نامزد صدارتي اميدوار تنظيم کے نائب مرشد عام رہ چکے ہيں۔ وہ ايک کامياب کاروباري شخصيت ہونے کے علاوہ تنظيم ميں سکيورٹي امور کے وزير سمجھے جاتے ہيں۔ اگر وہ صدر بن جاتے ہیں تو ان کا سب سے پہلا کام غزہ اور مصر کی سرحد کو کھولنا اور حماس کو ہر طرح سے مسلح کرنا ہو گا جو کہ اسرائیل کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ اس وقت غزہ محاصرے میں ہے اور مصر کی سرحد کو فوجی حکومت نے بند کررکھا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل سمیت مغربی ممالک تو اخوان کے اسلام پسندوں سے خوفزدہ ہیں ہی مگر خلیجی مسلمان ممالک کے مغرب نواز حکمران بھی اخوان سے سخت خوفزدہ ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں۔
اسی حوالے سے حال ہی میںدبئی پولیس کے چیف ضاحی خلفان نے ایک مرتبہ پھر عرب ممالک میں سرگرم جمہوریت پسند معتدل دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون پر خلیجی ممالک میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔ خلفان کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون نے خلیجی ممالک میں سنہ 2013ء کے دوران حکومتوں پر قبضے کی اسکیم تیار کر رکھی ہے۔ اس متوقع اسکیم کا آغاز کویت سے ہو گا اور تمام خلیجی ریاستوں میں اخوان المسلمون کے وضع کردہ منصوبے کے مطابق سنہ 2016ء میں حکومتوں کے تختے الٹ دیے جائیں گے۔
دبئی پولیس چیف کا یہ بیان کویتی اخبار "القبس" نے نقل کیا۔ منقولہ بیان کے مطاطق ضاحی خلفان کے پاس موجود یہ معلومات انہیں مغربی انٹیلی جنس اداروں نے فراہم کی ہیں۔ ان خفیہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کویت اخوان المسلمون کا خلیجی ممالک میں سب سے پہلا بڑا اڈا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ کویتی اخوان المسلمون اور ان کے مصری ہم خیالوں کے درمیان رابطے ہیں۔ اخوان المسلمون اگلے مرحلے میں قطر اور کویت کی جانب بڑھے گی اور یہاں کی حکومتوں کے خلاف بھی انقلابا برپا کرے گی۔ضاحی خلفان کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کے خلیجی ممالک میں کئی خفیہ "سیل" قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن عرب ممالک میں حکومتوں کے خلاف انقلاب برپا ہوئے ہیں وہاں پر اخوان المسلمون یا ان کے حامیوں کی حکومتیں وجوود میں انے لگی ہیں۔ یہ ایسی تنظیمیں ہیں جو امریکیوں کی ساختہ پرداختہ ہیں۔ امریکا ان کے ذریعے سڑکوں پر دھرنے دلوا کر حکومتوں کے تختے الٹ رہا ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ اخوان المسلمون سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں اور اسے اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہونے دیں۔
امریکا موروثیت کےخلاف
کویتی اخبار کے مطابق دبئی پولیس چیف نے اخوان المسلمون کے ساتھ ساتھ امریکا کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا خلیج کے موروثی اور بادشاہی نظام حکومت کی بساط لپیٹنے اور جمہوری ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہوئے ان ممالک میں اپنی مداخلت بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کو خاص طور پر خبردار کیا کہ وہ امریکیوں اور اخوان کی سازشوں سے باخبر رہے کیونکہ یہ لوگ مشرق وسطیٰ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ تقسیم کے بعد کئی چھوٹے ممالک وجود میں آئیں گے تاکہ اسرائیل کی سلامتی کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔
مسٹر خلفان کا کہنا تھا کہ امریکی سازش کے تحت عراق کے پڑوسی ممالک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں اسرائیل کی قومی سلامتی کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ رہے۔ انہوں نے اس بات کی نفی کی کہ وہ کسی حکومت کی جانب سےترجمان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ضاحی خلفان نے کہا کہ میں کسی سربراہ ریاست کی طرف سے اس کی نیابت نہیں کر رہا بلکہ میں جو محسوس کرتا ہوں اس کا اظہار کرتا ہوں۔

0 comments:

Post a Comment