Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !

Follow by Email

Friday, April 20, 2012

طالبان نے چالیس ممالک کی فوج کو کیسے شکست دی۔ا مریکی صحافی کا تجزیہ


&کابل میں 18 گھنٹوں سے جاری لڑائی ختم ہوگئی ہے اور افغان فورسز نے شہر پر کنٹرول بحال کرلیا۔دوسری جانب طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان جنگ کی تاریخ میں سب سے منظم حملے کرنے کیلئے طالبان نے 2ماہ تک ریہرسل کی جس میں چھوٹی عمارتوں ، ملٹری اسٹائل ماڈل کی مدد حاصل تھی ۔ ادھر قندھار میں نیٹو کے ملٹری بیس میں افغان فوجی اہلکار نے اتحادیوں پر فائرنگ کردی تاہم جوابی کارروائی میں اہلکار مارا گیا ۔ دریں اثناء امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا کہ کابل کے مربوط حملوں میں حقانی نیٹ ورک ملوث ہے ۔ کابل میں امریکی سفیر ریان کروکر نے بتایا ہے طالبان کے ایک ساتھ کئی حملوں کے جواب میں افغان سکیورٹی فورسز کی کارروائی بہتری کی واضح علامت ہے۔ ایساف کمانڈرجان ایلن کے مطابق افغان سیکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی حملے کرنے کیلئے اچھا کام کیا۔
;افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل ننگر ہار، لوگر اور پکتیا میں 30 افغان طالبان خودکش حملہ آوروں نے حصہ لیا تھا، اتوار کے روز دوپہر دو بجے کارروائیوں کا آغاز کیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت کابل میں کابل شہر کے وسط میں اہم فوجی تنصیبات ، سفارتی علاقوں اور غیر ملکی افواج کے رہائشی مقامات پر 13 خودکش حملہ آوروں نے حملے کئے ، پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب چار خودکش حملہ آوروں انس ( صوبہ لوگر) حافظ عصمت اللہ ( صوبہ غزنی ) اور حنیف صوبہ پکتیا نے ملا اقبال ( صوبہ لوگر ) کی قیادت میں حملہ کیا ، شیر پور میں 6 خودکش حملہ آوروں نے انجینئر سلیمان صوبہ پکتیا) ابراہیم ( صوبہ ننگر ہار ) ، ملا شہاب الدین ( صوبہ پکتیا ) ادریس ( صوبہ بلخ) اور خطاب ( صوبہ غزنی ) نے قاری عبدالرحمن کی نگرانی میں آپریشن کیا ۔ پل چرخی کے علاقے میں حملوں کی قیادت صوبہ زابل سے تعلق رکھنے والے ملا مزمل نے کی جبکہ ان کے ساتھ حافظ طلحہ ( صوبہ قندوز ) اور زین العابدین ( صوبہ پکتیا ) شامل تھے، یہ آپریشن 24 گھنٹے تک جاری رہا، طالبان کی جانب سے دوسری بڑی کارروائی 8 خودکش حملہ آوروں پر مشتمل گروپ کی قیادت صوبہ قندھار سے تعلق رکھنے والے محمد عمر نے کی ، صوبہ خوست سے تعلق رکھنے والے امیر حمزہ نے بارودی گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا جبکہ ضرار احمد ( صوبہ لوگر) محمود ( صوبہ ہلمند ) اور عابد صوبہ زابل نے پی آر ٹی کو نشانہ بنایا ۔ ایئر پورٹ آپریشن کی کمان معاذ ( صوبہ قندوز) کے پاس تھی جس کے ہمراہ خلیل ( صوبہ قندھار ) ، میر ویس ( صوبہ میدان وردک تھے چار گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں ایئر پورٹ پر بارودی گاڑی سے دھماکہ کیا گیا ، صوبہ پکتیا کے صدر مقام گردیز شہر میں تین خودکش حملہ آوروں حماد ( صوبہ غزنی ) کی قیادت میں آپریشن کا آغاز ہوا، جن میں طاہر ولایت ننگر ہار اور قاری سیف الرحمن باشندہ صوبہ خوست شامل رہے، صوبہ لوگر میں 6 فدائین نے صوبائی دارالحکومت پل عالم شہر میں کارروائی کی ، صوبہ خوست کے کمانڈر ملا دلاور نے معدنیات کے صوبائی دفتر پر حملہ کی نگرانی کی ، اس حملے میں قاری شفیع اللہ ( صوبہ ننگر ہار ) اور ملا مسعود ( صوبہ میدان وردک ) نے بھی حصہ لیا جبکہ تین افراد برار ( صوبہ زاہل ) اور ملا ایوب ( صوبہ فراح ) مشتمل گروپ کی قیادت صوبہ پکتیا کے سیف اللہ نے کی ، طالبان ترجمان ذبیح اللہ کے مطابق یہ کارروائیاں 24 گھنٹے تک جاری رہیں اور طے شدہ اہداف پر کامیاب حملے کئے گئے ۔
دس برس پہلے تین بڑے ممالک امریکہ، برطانیہ اور فرانس افغانستان پر حملہ آور ہوئے تھے اور طالبان ایک حکمت عملی کے تحت پسپا ہو کر پہاڑی وادیوں میں چلے گئے تھے۔ پھر عیسائی ممالک نے ”مفتوحہ“ افغانستان پر اپنا قبضہ پکا کرنے کے لئے مزید 39 ممالک کی فوجیں یہاں بلا لیں جن میں جاپان اور ترکی کے سوا سب&; عیسائی ممالک تھے۔ ان میں جنوبی کوریا بھی تھا جو امریکی چھتری تلے اب ایک عیسائی اکثریت کا ملک بن چکا ہے جہاں عیسائی آبادی 49 فیصد ہے اور بدھمت 47 فیصد رہ گئے ہیں۔ کوریا والے کچھ عرصہ پہلے افغانستان سے&; انخلاکر گئے کیونکہ طالبان نے انہیں نشانہ بنایاتھا۔ ترکی کا فوجی دستہ بھی سیکولر جرنیلوں نے نائن الیون کے بعد یہاں بھیجا تھا جبکہ رجب طیب اردگان کی جماعت ابھی برسر اقتدار نہیں آئی تھی۔ چھوٹے بڑے امریکی&; اتحادی کچھ عرصہ پہلے تک کہتے تھے: ہمیں افغان جنگ جیتنی ہے مگر&; اب کوئی بھی جنگ جیتنے کی بات نہیں کررہا اب 40 ممالک کی افواج افغانستان سے نکل بھاگنا چاہتے ہیں۔ وہ کبھی طالبان سے امن معاہدہ کے مذاکرات کی&; بات کرتے ہیں اور کبھی حقانی گروپ&; سےر ابطہ کرتے ہیں۔
اسی بارے میں ایک امریکی صحافی سکاٹ ٹینکل نے طویل تحقیقی رپورٹ لکھی ہے۔ سکاٹ ٹینکل ”مڈل ایسٹ آن لائن“ میں ”افغانستان: جنگ کی دہائی جس کا اختتام نظر نہیں آتا“ کے زیر عنوان لکھتا ہے: ”اکتوبر 2001ءمیں امریکہ نے ”آپریشن اینڈیورنگ فریڈم)“ (دیرپا، آزادی کے لئے آپریشن) کا آغاز کیا تھا۔ صدر بش نے حملے کے شروع میں بتایا تھا کہ امریکی فوجی اقدام کا مقصد سینئر القاعدہ رہنماﺅں کو گرفتار یا ہلاک کرنا، تنظیم کا ڈھانچہ تباہ کرنا اورطالبان کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ اب دس سال بعد جائزہ لیں تو القاعدہ کو شکست دی جا چکی اور وہ امریکہ یا مغرب کی سرزمین پر حملوں کے قابل نہیں رہی اور اب اسے اپنی بقا کے تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔ طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اورا سامہ بن لادن سمیت ہزاروں القاعدہ جنگجو ہلاک کر دیئے۔ اگرچہ ان کا نظریہ بدستور کارفرما ہے اور نئی بھرتی جاری ہے۔ یہ نہ ختم ہونے والی فوجی کارروائیوں کا عشرہ تھا جس میں اوباما نے ڈرون طیاروں سے ٹارگٹ ہلاکتوں کو بیش از بیش ترجیح دی اور بن لادن کے کمپاﺅنڈ پرحملے سے معلومات کا خزانہ ہاتھ آیاہے جس سے القاعدہ کی صلاحیت اور عملیت شدید متاثر ہوئی ہے، مگر القاعدہ کے ذیلی گروہ بہت سے ہمدرد ملکوں اور ناکام ریاستوں میں موجود ہیں اور وہ مغربی مفادات کے لئے بدستور خطرہ بنے رہیں گے تاہم تنظیم کی سرمایہ کاری، حمل و نقل، انٹیلی جنس، عسکری تربیت اور آپریشنل صلاحیتیں بہت متاثر ہوئی ہیں “۔
ٹینکل مزید لکھتا ہے:”لیکن طالبان اپنے آپریشنز جس کامیابی کے ساتھ بروئے کار لارہے ہیں وہ کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں تھے۔ انہوں نے جنگ میں اپنی مزاحمت و مقاومت کا باربارثبوت دیا ہے۔ حریم اقتدار سے نکالے جانے کے باوجود اپنی بغاوت روبہ عمل لانے کے لئے طالبان کی صلاحیت بدستور نمایاں ہے اور دیہی علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ کم نہیں ہو رہا بلکہ بڑھ رہا ہے۔ اتحادی افواج کے لئے طالبان جو خطرہ بنے ہوئے ہیں اس کی ظاہر و باہر مثال نائن الیون کی برسی پر دس طالبان کا کابل کے امریکی سفارت خانے پر خوفناک خود کش حملہ ہے جس میں پانچ افغانی مارے گئے اور 77 امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ مزید برآں اگست 2011ءامریکی فوجیوں کے لئے سب سے زیادہ تباہ کن رہا جب طالبان نے ایک چینوک ہیلی کاپٹر مار گرایا (جس میں 35 امریکی&; مارے گئے) طالبان کے خاصے جانی نقصانات کے باوجود ان کے حق میں دس سالہ جنگ نے جو کامیاب نتائج دیئے ہیں وہ مغربی اتحاد کے لئے ناممکن الحصول ثابت ہوئے ہیں۔ پھر حالیہ کابل کے خوفناک حملے تو جنگ کا رخ ہی پلٹتے نظر آرہے ہیں“۔
آگے چل کر سکاٹ ٹینکل ا مریکی اور اتحادیوں کی ناکامیوں اور نامرادیوں کے اسباب کچھ یوں بیان کرتاہے: ”بہت بھاری فوجی قوت کے باوجود امریکی جرنیل ایک متعین سٹرٹیجی پر کاربند رہنے میں ناکام رہے جس سے میدان جنگ میں ان کی ”کامیابیاں“ دیرپا ثابت نہ ہوئیں۔ انہوں نے جس افغان آرمی اور سکیورٹی فورسز کو تربیت دی اس کے ذریعے عراق جیسے نتائج حاصل نہ ہو سکے کیونکہ کرزئی حکومت بدترین کرپشن میں مبتلا ہے اور سکیورٹی فورسز افغان شہریوں کو تحفظ دینے اور دیہی علاقوں میں ”دہشت گردوں“ سے لڑنے میں ناکام رہی ہیں۔&; طالبان کی دہشت اور خوف کا یہ عالم رہا کہ اطالوی فوجی اپنی جانیں بچانے کے لئے طالبان کو معقول بھتہ دے کر نقل وحرکت کرتے تھے۔ ان کی جگہ لینے فرانسیسی آئے تو وہ اطالویوں کی اس خاموش سودا بازی سے بے خبر ہونے کے باعث مفت میں اپنا جانی نقصان کرا بیٹھے۔
ٹینکل امریکی شکست کے اسباب پر مزید یوں روشنی ڈالتا ہے: ”نیٹو کی جنگی پالیسی سٹریٹجک پوزیشنوں اور سپلائی روٹس پر قبضے سے عبارت تھی تاکہ طالبان کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔ اتحادی بیرونی چوکیاں (outposts) طالبان کو شہروں سے نکالنے میں کامیاب رہیں،جنہیں Bullet Magnets (گولی مقناطیس) کہا جاتا تھا.... اور طالبان دیہی اور پہاڑی علاقوں میں جا کر مصروف پیکار ہوئے۔ اتحادیوں نے ان دور دراز علاقوں میں کئی اڈے بنائے مگر بھاری اخراجات اور جانی نقصان کے باعث انہیں چھوڑنا پڑا۔ جنگ کی پہلی نصف دہائی میں کوئی خاص کامیابی نہ ہوئی تو نئی امریکی فوجی سٹریٹجی بروئے کار آئی۔ عراق میں جنرل پیٹریاس کا انسداد بغاوت کا نظریہ کامیاب رہا تھا (اس کامیابی کی ایک&; سفاک مثال نومبر 2004ءمیں عراقی شہر فلوجہ پر ٹینکوں، توپوں اور طیاروں سے اندھا دھند بمباری کی وحشیانہ کارروائی تھی جس میں ایک لاکھ عراقی قتل کر دیئے گئے) اب پیٹریاس کو افغانستان لا کر وہ نتائج حاصل کرنے کی بیکار سعی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ افغان عوام کے دل و دماغ جیتنے کے لئے ”Hearts and Minds“مہم چلائی گئی۔ پیٹریاس کی انسداد بغاوت مہم امریکی فوجی نفری کی قلت کے باعث مطلوبہ نتائج نہ دے سکی کیونکہ امریکی فوج ابھی عراق میں بھی پھنسی ہوئی تھی۔ امریکی فوج کے بیرونی چوکیاں چھوڑنے کے باعث طالبان کی رسد کے راستے کھل گئے اور وہ اپنے دور دراز اڈوں میں پھر متحرک ہو گئے۔ تب اوباما نے 30 ہزار مزید امریکی فوجی جنگ میں دھکیل دےئے تاکہ وہ مقامات پر کر سکیں جو ”دل و دماغ جیتنے“ کی مہم میں خالی پڑے تھے جبکہ پاک افغان سرحد بھی غیر محفوظ ہو چکی تھی۔ اب سپیشل فورسز آپریشنز اور ڈرون حملوں میں تیزی لائی گئی، خصوصی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور رات کو دروازہ توڑ کارروائیاں اور گرفتاریاں کی جانے لگیں....“ امریکی صحافی ٹینکل کے خیال میں ”اگرچہ طالبان غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ میں اپنے آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں مگر ان کی یہ کارروائیاں مایوسی کے اقدامات لگتی ہیں۔ ان کے موجودہ حملے خطرناک اور مہلک ہونے کے باوجود خود کش کارروائیوں کی شکل میں بروئے کار آتے ہیں“ تاہم وہ تسلیم کرتا ہے کہ اتحادی فوجیوں کو خوفناک مزاحمت پیش آ رہی ہے اور افغانستان عالمی&; برادری کے لئے اپنا سرمایہ ڈبونے کا گڑھا بنا ہوا ہے، پھر وہ لکھتا ہے: ”بن لادن اور کئی اعلیٰ القاعدہ قائدین کی موت کے بعد امریکہ کے لئے عقل مندی کا راستہ یہ ہے کہ وہ اس کامیابی کو ”فوجی فتح“ قرار دے اور اسے افغانستان سے نکل جانے اور طالبان کے خلاف جنگ ختم کرنے کا عذر بنا لے۔ بن لادن کی موت نے امریکیوں کو ایک موقع دیا ہے جس کے ذریعے وہ اس جنگ سے پیچھا چھڑانے کی شاندار سٹریٹجی اختیار کر سکتے ہیں، انہیں افغانستان کو محفوظ بنانے اور اس کی تعمیر نو کا خیال چھوڑ کر جنگ کے بنیادی مقصد کی طرف لوٹ کر سنجیدگی سے امریکی افواج کے انخلاءکی ضرورت پر غور کرنا چاہیے خواہ طالبان کے (غالب آنے کے) حالات درپیش ہوں۔ کرزئی حکومت اور طالبان میں کسی نوع کی شراکت اقتدار کا اہتمام بھی ضروری ہے ورنہ یہ ملک ابتری اور خونریزی کا شکار ہو جائے گا“۔

0 comments:

Post a Comment