Like us

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below...

Follow me on Social Networks

Add this !

Follow by Email

Friday, April 20, 2012

میں نے جہاز گرنے کے بعد کیا دیکھا؟ جائے حادثہ سے




پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواح میں مسافر طیارے کے حادثے کے بعد جائے حادثہ اور ہسپتالوں میں موجود نامہ نگاروں کی رپورٹس۔
شام نو بج کر چالیس منٹ، حسین آباد گاؤں
جائے حادثہ پر عوام کی بڑی تعداد جمع ہے جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں خلل پڑ رہا ہے۔ لوگوں کے رش کی وجہ سے ایمبولینسیں نہ تو جائے حادثہ پر آ سک رہی ہیں اور نہ ہی وہاں سے باہر نکل سکی ہیں۔ امدادی کارکنوں نے لاشوں کے ٹکڑے ایک ڈھیر کی شکل میں سڑک کنارے جمع کر رہے ہیں۔ تاہم اندھیرا ہونے کی وجہ سے یہ کام مشکلات کا شکار ہے۔ فوج نے علاقے سے عوام کو ہٹانے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اور اب میڈیا کو بھی جائے حادثے پر نہیں جانے دیا جا رہا۔
شام نو بج کر بیس منٹ، جائے حادثہ

جائے حادثہ پر موجود نامہ نگار حفیظ چاچڑ نے بتایا کہ جائے حادثہ کے ایک طرف مکانات ہیں اور دوسری طرف وسیع خالی پلاٹ ہے جہاں جھاڑیوں میں ملبہ اور انسانی اعضاء بکھرے ہوئے ہیں۔
جھاڑیوں میں تباہ ہونے والے جہاز کی تین نشستیں پڑی تھیں جن کے آس پاس انسانی اعضاء بکھرے ہوئے تھے۔
امدادی کارکن علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور کپڑے کی چادروں میں انسانی اعضاء جمع کررہے ہیں۔
اندھیرے، بارش کی وجہ سے پیدا ہونے والی کیچڑ اور لوگوں کے رش کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ لوگ موبائل کی ٹارچ استعمال کرکے علاقے میں انسانی اعضاء تلاش کررہے ہیں۔
شام نو بج کر اٹھارہ منٹ، پمز ہسپتال اسلام آباد
نامہ نگار ذیشان ظفر نے بتایا کہ بڑی تعداد میں لوگ پمز ہسپتال جمع ہو گئے ہیں اور ہر آنے والی ایمبولینس کی جانب دوڑتے ہیں۔ لاؤڈ سپیکر سے اعلان ہوتا ہے کہ اس ایمبولینس میں عام مریض ہے۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر محمود جمال کا کہنا ہے کہ ایمبولینسیں جائے حادثہ کی جانب روانہ کی تھیں لیکن وہ ابھی تک پہنچ نہیں سکیں۔
شام نو بج کر پندرہ منٹ، حسین آباد گاؤں
تابندہ کوکب نے بتایا کہ یہ جہاز بجلی کی تاروں سے ٹکرایا جس کے بعد یہ علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ جہاز تین بار زمین سے ٹکرایا اور پھر بلند ہوا اور اس کے بعد مکانوں سے ٹکرایا۔
شام نو بج کر دو منٹ، حسین آباد گاؤں
نامہ نگار تابندہ کوکب اس گاؤں پہنچیں جہاں یہ جہاز گرا ہے۔ اس علاقے میں تاریکی چھائی ہوئی ہے اور امدادی کاموں میں نہایت دشواری پیش آ رہی ہے۔ یہاں جہاز میں سوار افراد کے رشتہ دار بھی پہنچ گئے ہیں۔ وہ اس تاریکی میں اپنے پیاروں کی تلاش کر رہے ہیں۔ جہاز گرنے کے باعث چند مکانوں کو نقصان ہوا ہے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
شام آٹھ بج کر پینتالیس منٹ، لوئی بھیر
نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ لوئی بھیر کے قریب کورال ہی سے ٹریفک کو روک دیا گیا ہے جس کے باعث ٹریفک بری طرح بلاک ہوگئی ہے۔ لوگ پیدل جائے حادثہ کی جانب جا رہے ہیں۔ امدادی ٹیموں کو بھی پہنچنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ ابھی تک کوئی لاش نہیں اٹھائی گئی۔
شام ساڑھے آٹھ بجے، حسین آباد
جہاز میں سوار مسافروں کے اہلِ خانہ جائے حادثہ پر پہنچے ہیں۔ جائے حادثہ میں بجلی نہ ہونے کے باعث اہلِ خانہ کا مطالبہ ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی کام کیا جائے۔

0 comments:

Post a Comment